2011/04/18

چوری کا فتویٰ اور ڈالروں کی برسات

جاوید اقبال
معروف و مقبول کالم نگار ہیں۔ روزنامہ اردو نیوز (سعودی عرب) کے جمعہ ایڈیشن میں بلاناغہ ان کا ایک مختصر پراثر کالم چوتھے صفحہ پر شائع ہوتا ہے۔ میں کافی عرصہ سے اس کالم کا قاری ہوں۔ کچھ مرتبہ ان کے کالم شئر بھی کئے ہیں۔
اس بار بھی ان کا تازہ ترین کالم بعنوان "تیسری ای میل" (شائع شدہ : 15 اپریل 2011ء) پیش خدمت ہے۔
میں اس کالم کو مزید مختصر کر کے اپنی ترتیب کے ساتھ پیش کر رہا ہوں ، اصل کالم آپ نیچے دئے گئے لنک میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
***

ایک محترم دوست کی جانب سے مجھے دو ایمیل ملی ہیں۔

پہلی ای میل ۔۔۔۔۔۔ کراچی کی جامعہ بنوریہ کے بارے میں۔
اخباری رپورٹ کا عنوان ہے "لوگوں کی جان بچانے کیلئے چوری کا فتویٰ جاری کرنے پر غور"۔
جامعہ بنوریہ کے مفتی صاحب کے پاس 2 ہزار کے لگ بھگ سائلین حاضر ہوئے۔ یہ کراچی کے معروف صنعتی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور تھے۔ ان کی شکایات تھیں کہ ۔۔۔۔
وہ اشیائے خورد و نوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں آئے روز کے اضافے سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان کا ماہانہ مشاہرہ 6 سے 9 ہزار روپے کے درمیان ہے اور گھرانہ 5 ، 6 یا 10 افراد پر مشتمل ہے۔ اس قلیل اجرت پر اور مہنگائی کے اس طوفان میں ان کا گزارہ مشکل ہے۔ گھروں میں فاقے ہو رہے ہیں اور علاج معالجہ کے وسائل نہ ہونے پر ان کے اہل خانہ ان کی آنکھوں کے سامنے سسک سسک کر دم توڑ رہے ہیں۔
سائلین نے کہا ۔۔۔۔۔
جب کسی مسلمان کی بھوک کے مارے موت واقع ہونے والی ہو تو اسلام اسے سور کا گوشت کھانے کی اجازت دیتا ہے اور خودکشی کو حرام قرار دیتا ہے۔ اب کیا اسی دلیل کو سامنے رکھتے ہوئے چوری ، ڈکیتی یا ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ ناجائز مال سے وہ اپنے اہل خانہ کے پیٹ کی آگ بجھا سکتے ہیں ؟؟

ملک کے مشہور فلاحی ادارے ایدھی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ شہر میں پانچ مقامات پر مفلس لوگوں کو کھانا کھلا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود عوام کی ایک بڑی تعداد دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے۔ یہ صورتحال اس وقت تک تبدیل نہیں ہو سکتی جب تک مراعات یافتہ طبقہ اپنی شاہ خرچیوں میں کمی نہیں لاتا۔

دوسری ای میل ۔۔۔۔۔۔ فیصل آباد میں شادی کی ایک تقریب میں ڈالروں کی برسات۔
یہ تقریباً پانچ منٹ کی یوٹیوب ویڈیو ہے۔ منظر شادی کی تقریب ، محفلِ راگ و رنگ ، اسٹیج پر ایک مغنی اپنے سازندوں کے ہمراہ، سامنے ہال میں دیڑھ دو سو کے قریب حاضرین۔
حاضرین میں سے ایک نوجوان اپنا بریف کیس کھولتا ہے اور ڈالروں کی گڈیاں نکال کر گانے والے پر نچھاور کرتا ہے۔ جب ہاتھ میں پکڑے ڈالر ختم ہو جاتے ہیں تو بریف کیس سے دوبارہ نئی گڈیاں لا کر اچھالتا ہے۔ وہ ایسا کئی بار کرتا ہے اور اس کے کام میں اس کا ایک اور ساتھی بھی ہاتھ بٹاتا ہے۔ لٹانے والے دیوانے ہو چکے ہیں۔ سارا فرش امریکی کرنسی کے ڈھیر میں چھپ گیا ہے۔ گانے والے پر ڈالروں کی برسات ہو رہی ہے۔ مستی مسرت ہے۔
مگر ۔۔۔۔ صرف چند سو گز کے دائرے میں برقی توانائی نہ ہونے سے ہزاروں کھڈیاں ویران پڑی ہیں اور ہزاروں مزدور گھرانے شکم کی آگ میں اپنے بدنوں کے ایندھن جلا رہے ہیں !

***
تیسری ای میل کی خواہش نہیں ہے !
جب اہل ثروت پر اتنی بےحسی چھا جائے کہ ان کے نزدیک نام و نمود انسانی جان سے زیادہ اہم ہو جائے تو پھر تاریخ کا دھارا اپنا رخ یوں پلٹتا ہے کہ ہر قدم پر لہو کا خراج لیتا ہے۔ لاکھوں کے لباس زیب تن کرنے والے ، نجی محفلوں پر کروڑوں لٹانے والے اور مظلوم خلق خدا کے درد و آشوب سے بےحسی کا مظاہرہ کرنے والے ہمارے حکمران اور ثروت مند فوراً تاریخ سے سبق سیکھیں ورنہ ۔۔۔۔
تیسری ای میل کہیں ان کے عبرتناک انجام کے بارے میں نہ ہو !!

-----
کالم : تیسری ای میل (جاوید اقبال) - روزنامہ اردو نیوز ، 15-اپریل-2011

2011/04/12

www.jihad.com ۔۔۔ حقیقت کیا ہے؟

تشدد ، دہشت گردی اور مذہبی جنونیت ۔۔۔۔
کیا اس کے خلاف مسلم دنیا میں کچھ کہا گیا ہے؟ اور کیا مسلم دنیا کے ایسے خیالات کو انگریزی میڈیا میں پیش کیا گیا ہے؟ کیا ہمارے نامور اور معتبر علماء نے واقعتاً اسلام پر لگائے جانے والے دہشت گردی کے الزام کا مدلل رد کیا ہے؟
اس موضوع پر نیٹ گردی کے دوران امریکن مسلم ویب سائیٹ کا یہ تحقیقی مقالہ مطالعے سے گزرا ۔۔۔۔
Muslim Voices Against Extremism and Terrorism - Fatwas & Formal Statements by Muslim Scholars & Organizations

یہ تحقیق بلاشبہ ایک انتہائی قابل قدر کوشش ہے جس کو زیادہ سے زیادہ کشادہ ذہن علمی و دینی حلقوں تک پہنچایا جانا چاہئے۔

اسی ضمن میں جب منفی نقطہ نظر کی تلاش ہوئی تو ایک معروف مغربی کالم نگار کا تجزیہ مطالعے سے گزرا۔
تھامس فرائیڈمن ، نیویارک ٹائمز (امریکہ) کے مشہور کالم نویس ہیں۔
آپ جناب نے کوئی سال دیڑھ سال قبل ایک آرٹیکل لکھا تھا بعنوان :
www.jihad.com
خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
مسلم ممالک میں ایک پرتشدد اور جہاد پرست اقلیت ایسی ہے جو اپنے وجود کو جائز ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ مسلم ممالک کے سیاسی اور مذہبی قائدین میں سے چند ہی عوام کے آگے جہاد اور تشدد کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مسلم ممالک کی اہم مذہبی شخصیات میں سے کتنوں نے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے خلاف فتوے جاری کئے ہیں ؟؟

فرائیڈمن مسلم دنیا کے معاملات کے تعلق سے اس قدر باخبر صحافی ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ اور اس کے وسائل کے بارے میں ایک کتاب (From Beirut to Jerusalem) بھی شائع کر چکے ہیں جسے غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔
لیکن جب یہی فرائیڈمن اپنے آرٹیکل (www.jihad.com) میں ایک ناقابل فہم بات لکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ دانستہ طور پر ناواقفیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

تھامس فرائیڈمن کی اس متنازعہ تحریر (www.jihad.com) کے ہفتہ بھر بعد ہی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے شعبہ مذہب و بین الاقوامی امور کے پروفیسر جان ایل اسپازیٹو نے فرائیڈمن کے نظریات کا رد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ تھامس فرائیڈمن نے غیرحقیقی اور غیرمنطقی گفتگو کی ہے۔ پروفیسر جان اسپازیٹو کا مکمل مقالہ یہاں ملاحظہ فرمائیں :
Tom Friedman on Muslims and Terrorism: Getting it Wrong Again

پروفیسر اسپازیٹو کے غیرجانبدارانہ اور منصفانہ تجزیے کے مطابق ۔۔۔۔۔
گیلپ عالمی پول (Gallup World Poll) کے مطابق تو 35 مسلم ممالک ، جو شمالی افریقہ سے جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلے ہوئے ہیں ، میں کئی مسلم افراد اور امریکیوں نے شہریوں کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنانے جانے کی کھل کر مذمت کی ہے اور انہیں اخلاقی طور پر ناجائز قرار دیا ہے۔
11 ستمبر کے حملوں کے بعد سعودی عرب سے لے کر ملیشیا اور امریکہ میں تک کئی اہم بااثر اور مختلف الخیال مذہبی قائدین نے عمومی طور پر دہشت گردی اور خصوصاً اسامہ بن لادن کی سرگرمیوں کی مذمت کی ہے۔ ان قائدین میں شیخ طنطاوی (جامعہ الازہر کے مرحوم چانسلر) اور ایران کے آیت اللہ کاشانی تک شامل ہیں۔
بطور ثبوت یہ مقالہ دیکھیں ۔۔۔۔
Muslim Voices Against Extremism and Terrorism

تھامس فرائیڈمن اگر یہ کہتے ہیں کہ :
مسلمانوں میں ایک عجیب و غریب ذہنیت گھر کر چکی ہے جس کے تحت عربوں اور مسلمانوں کو محض ایک ایسا محرک سمجھا جانے لگا ہے جو دنیا میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کے لیے ذمہ دار نہیں۔ جبکہ ہم دنیا کے کسی بھی واقعے سے متاثر ہونے والے افراد ہیں جو دنیا میں کہیں بھی ہونے والے کسی بھی واقعہ کیلئے ذمہ دار ہیں۔

تو ان کے لیے میرا ناقص مشورہ یہ ہے کہ :
اگر عربوں اور مسلمانوں کی ذمہ داری کو ابھارنے کے لیے فرائیڈمن اس قدر تعلق خاطر رکھتے ہیں اور ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ مزاحمت کریں تو پھر انہیں اور نیویارک ٹائمز جیسے معتبر اخبار کو ایک مثبت قدم اٹھانا ضروری ہے۔ اور وہ یہی کہ وہ مسلم قائدین اور مسلمانوں کی بھاری اکثریت کی نمائیندگی کرنے والے افراد کے بیانات کو نظر انداز نہ کریں بلکہ ان کو زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچائیں !
اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ گویا ایک طرح کی غیرذمہ دارانہ صحافت ہوگی اور اس کا مقصد یہ قرار پائے گا کہ وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو یکا و تنہا کر کے ان کے جائز مقاصد کی تکمیل کے متعلق پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں !!