2007/11/21

مسکراہٹ

اپنے موجودہ ماحول میں اگر آپ سب سے منفرد رہنا چاہتے ہیں ۔۔۔ اور ، لوگوں میں اپنی شخصیت کا مثبت اثر ڈالنا چاہتے ہیں ۔۔۔ تو پھر اس کے لیے آپ کو اپنا رویہ بہتر بنانا ہوگا۔
جی نہیں ۔۔۔ آپ سے یہ نہیں کہا جا رہا ہے کہ آپ کا موجودہ رویہ خراب ہے ۔ بلکہ مطلب صرف اتنا ہے کہ بہتر چیز میں بھی مزید بہتری ممکن ہے۔
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مختلف مزاج کے حامل ہوتے ہیں۔
ایک دوا ایسی بھی ہے جس کو ماہرین ِ نفسیات ، تمام قسم کے افراد کے لیے یکساں طور پر تشخیص کرتے ہیں۔
اور اس دوا کا نام ہے : ہنسی یا مسکراہٹ ۔
کہتے ہیں کہ مسکراہٹ انسان کے چہرے کی قدر و قیمت میں اضافہ کر دیتی ہے۔
ماحول میں لطافت پیدا کرنے کے لیے کبھی کبھی ہم کو اپنی حس ِ مزاح کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور تھوڑی ہی دیر میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ماحول میں اچانک ایک خوبصورت سی تبدیلی آئی ہے اور خشک و بے لطف ماحول یکدم سے زعفران زار بن گیا ہے۔
مسکراہٹ کی اشد ضرورت اُس وقت سب سے زیادہ ہوتی ہے جب ہمارا موڈ بے حد خراب ہوتا ہے۔
ایک مشہور نفسیات داں کا قول ہے ‫:
اگر آپ ہنستے ہیں تو آپ کے ساتھ دنیا ہنستی ہے اور اگر آپ روتے ہیں تو آپ اکیلے روتے ہیں ۔

اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ دونوں میں سے کس چیز کا انتخاب کرتے ہیں ؟

2007/11/01

کتابوں کی اقسام

میرا جی نے کہا ہے کہ ‫:
کتابیں کئی طرح کی ہوتی ہیں ۔
کتابوں کی ایک قسم وہ ہوتی ہے : جسے ہم لکھتے ہیں اور دوسرے پڑھتے ہیں ، یہ ہماری بیٹیاں ہوتی ہیں ۔
کتابوں کی ایک قسم وہ ہے : جسے دوسرے لکھتے ہیں اور ہم پڑھتے ہیں ، یہ ہماری بیویاں ہیں ۔
کتابوں کی تیسری قسم وہ ہے : جسے ہم گھروں میں اونچی جگہوں پر ، طاق میں ، جزدانوں میں لپیٹ اور سجا کر الگ تھلگ رکھ دیتے ہیں اور کبھی خیال آ جائے تو ان پر پڑی گرد کو جھاڑ پونچھ لیتے ہیں ، یہ ہماری والدین اور بزرگ ہوتی ہیں ۔