2008/08/14

قومیت کی بنیاد ۔۔۔ 'وطن' نہیں بلکہ : "اسلام‫"

اللہ اور اس کے رسول نے جاہلیت کی اُن تمام محدود مادّی ، حسی اور وہمی بنیادوں کو ، جن پر دنیا کی مختلف قومیتوں کی عمارتیں قائم کی گئی تھیں ، ڈھا دیا۔
رنگ ، نسل ، وطن ، زبان ، معیشت اور سیاست کی غیر عقلی تفریقوں کو ، جن کی بنا پر انسان نے اپنی جہالت و نادانی کی وجہ سے انسانیت کو تقسیم کر رکھا تھا ، مٹا دیا اور انسانیت کے مادے میں تمام انسانوں کو برابر اور ایک دوسرے کا ہم مرتبہ قرار دے دیا۔
اس تخریب کے ساتھ انسان نے پھر ایک خالص عقلی بنیاد پر ایک نئی قومیت تعمیر کی۔ اس "قومیت" کی بنا بھی امتیاز پر تھی ، مگر مادّی اور غرضی امتیاز پر نہیں بلکہ روحانی اور جوہری امتیاز پر۔ اس نے انسان کے سامنے ایک فطری صداقت پیش کی جس کا نام "اسلام" پے ‫!
اسلام نے اللہ کی بندگی و اطاعت ، نفس کی پاکیزگی و طہارت ، عمل کی نیکی اور پرہیزگاری کی طرف سارے نوعِ بشر کو دعوت دی۔
پھر کہہ دیا کہ ۔۔۔
جو اس دعوت کو قبول کرے وہ ایک قوم سے ہے
اور جو اس کو ردّ کرے وہ دوسری قوم سے ہے۔

ایک قوم ایمان اور اسلام کی ہے اور اس کے سب افراد ایک امت ہیں۔
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 143 )


اور ایک قوم کفر اور گمراہی کی ہے اور اس کے متبعین اپنے اختلافات کے باوجود ایک گروہ ہیں
وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 264 )


ان دونوں قوموں کے درمیان بنائے امتیاز نسل اور نسب نہیں ، اعتقاد اور عمل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک باپ کے دو بیٹے اسلام اور کفر کی تفریق میں جدا جدا ہو جائیں اور دو بالکل اجنبی آدمی اسلام میں متحد ہونے کی وجہ سے ایک قومیت میں مشترک ہوں۔

وطن کا اختلاف بھی ان دونوں قوموں کے درمیان وجۂ امتیاز نہیں ہے۔ یہاں امتیاز "حق" اور "باطل" کی بنیاد پر ہے ۔۔۔ اور
‫"‬حق" اور "باطل" کا کوئی مخصوص وطن نہیں ہوتا ‫!
ممکن ہے ایک شہر ، ایک محلہ ، ایک گھر کے دو آدمیوں کی قومیتں اسلام اور کفر کے اختلاف کی وجہ سے مختلف ہو جائیں اور ایک پاکستانی رشتۂ اسلام میں مشترک ہونے کی وجہ سے ایک ہندوستانی کا قومی بھائی بن جائے۔

رنگ کا اختلاف بھی یہاں قومی تفریق کا سبب نہیں ہے۔ یہاں اعتبار چہرے کے رنگ کا نہیں ، اللہ کے رنگ کا ہے اور وہی بہترین رنگ ہے ‫:
صِبْغَةَ اللّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ صِبْغَةً
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 138 )

ہو سکتا ہے کہ "اسلام" کے اعتبار سے ایک سفید برطانوی اور ایک سیاہ افریقی کی ایک قوم ہو اور کفر کے اعتبار سے دو گوروں کی دو الگ قومیتیں ہوں۔

زبان کا امتیاز بھی "اسلام" اور "کفر" میں وجۂ اختلاف نہیں ہے۔ یہاں منہ کی زبان نہیں محض دل کی زبان کا اعتبار ہے جو ساری دنیا میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اس کے اعتبار سے عربی اور برصغیری کی ایک زبان ہو سکتی ہے اور دو عربوں کی زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں۔

معاشی اور سیاسی نظاموں کا اختلاف بھی اسلام اور کفر کے اختلاف میں بےاصل ہے۔ یہاں جھگڑا دولتِ زر کا نہیں دولتِ ایمان کا ہے۔ انسانی سلطنت کا نہیں اللہ کی بادشاہت کا ہے۔
جو لوگ حکومتِ الٰہی کے وفادار ہیں ، اور جو اللہ کے ہاتھ اپنی جانیں فروخت کر چکے ہیں وہ سب ایک قوم ہیں خواہ ہندوستان میں ہوں یا پاکستان میں۔
اور جو اللہ کی حکومت سے باغی ہیں اور شیطان سے جان و مال کا سودا کر چکے ہیں وہ ایک دوسری قوم ہیں۔ ہم کو اس سے کوئی بحث نہیں کہ وہ کس سلطنت کی رعایا ہیں اور کس معاشی نظام سے تعلق رکھتے ہیں؟

اس طرح اسلام نے قومیت کا جو دائرہ کھینچا ہے ، وہ کوئی حسّی اور مادّی دائرہ نہیں بلکہ ایک خالص عقلی دائرہ ہے۔ ایک گھر کے دو آدمی اس دائرے سے جدا ہو سکتے ہیں اور مشرق و مغرب کا بُعد رکھنے والے دو آدمی اس میں داخل ہو سکتے ہیں۔
اس دائرہ کا محیط ایک کلمہ ہے ‫:
لا اله الا الله محمد الرسول الله

اسی کلمہ پر دوستی بھی ہے اور اسی پر دشمنی بھی۔
اسی کا اقرار جمع کرتا ہے اور اسی کا انکار جدا کر دیتا ہے۔
جن کو اس نے جدا کر دیا ہے ان کو نہ خون کا رشتہ جمع کر سکتا ہے ، نہ خاک کا ۔ نہ زبان کا ، نہ وطن کا ، نہ رنگ کا ، نہ روٹی کا ، نہ حکومت کا۔
اور جن کو اس نے جمع کر دیا ہے انہیں کوئی چیز جدا نہیں کر سکتی۔ کسی دریا ، کسی پہاڑ ، کسی سمندر ، کسی زبان ، کسی نسل ، کسی رنگ اور کسی زر و زمین کے قضیہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اسلام کے دائرے میں امتیازی خطوط کھینچ کر مسلمان اور مسلمان کے درمیان فرق کرے۔

ہر مسلمان خواہ وہ پاکستان کا باشندہ ہو یا بھارت کا واسی ، گورا ہو یا کالا ، ہندی بولتا ہو یا عربی ، سامی ہو یا آرین ، ایک حکومت کی رعیت ہو یا دوسری حکومت کی ۔۔۔
وہ مسلمان قوم کا فرد ہے ‫،
اسلامی سوسائیٹی کا رکن ہے ‫،
اسلامی اسٹیٹ کا شہری ہے ‫،
اسلامی فوج کا سپاہی ہے ‫،
اسلامی قانون کی حفاظت کا مستحق ہے۔

شریعتِ اسلامیہ میں کوئی ایک دفعہ بھی ایسی نہیں ہے جو عبادات ، معاملات ، معاشرت ، معیشت ، سیاست ، غرض زندگی کے کسی شعبہ میں جنسیت یا زبان یا وطنیت کے لحاظ سے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے مقابلہ میں کمتر یا بیشتر حقوق دیتی ہو۔

کمپوزنگ ، ردّ و بدل و اضافہ : باذوق
بشکریہ : مسئلۂ قومیّت - سید ابوالاعلیٰ مودودی

1 comment:

  1. باذوق بہت شکریہ اس اہم اقتباس کو پیش کرنے کا۔ علامہ اقبال نے اپنی ایک نظم "وطنیت" میں بھی اس مسئلے کو بہت واضح کر کے بیان کیا ہے، چند اشعار تو بہت ہی اعلٰی اور بامعنی ہیں جو قاری کے دل کو چیر کر رکھ دیتے ہیں خاص طور پر آخری تین اشعار:

    اس دور میں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اور
    ساقی نے بنا کی روش لطف و ستم اور
    مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
    تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا کفن ہے
    یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیب نوی ہے
    غارت گر کاشانۂ دین نبوی ہے
    بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
    اسلام ترا دیس ہے ، تو مصطفوی ہے
    نظارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
    اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے !
    ہو قید مقامی تو نتیجہ ہے تباہی
    رہ بحر میں آزاد وطن صورت ماہی
    ہے ترک وطن سنت محبوب الہی
    دے تو بھی نبوت کی صداقت پہ گواہی
    گفتار سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے
    ارشاد نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے
    اقوام جہاں میں ہے رقابت تو اسی سے
    تسخیر ہے مقصود تجارت تو اسی سے
    خالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سے
    کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے
    اقوام میں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے
    قومیت اسلام کے جڑ کٹتی ہے اس سے

    ReplyDelete