2008/08/31

رمضان مبارک

السلام علیکم
رمضان کریم کی نیک ساعتیں آپ تمام کو مبارک ہوں۔

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ اللّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُون
رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی واضح اور حق کو باطل سے جدا کرنے والی دلیلیں ہیں ، پھر تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے تو اسے چاہئے کہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 185 )

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‫:
اذا دخل شهر رمضان فتحت ابواب السماء، وغلقت ابواب جهنم، وسلسلت الشياطين
جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔
صحيح بخاری ، كتاب الصوم ، باب : هل يقال رمضان او شهر رمضان ومن راى كله واسعا ، حدیث : 1933

2008/08/28

سچ پر قائم رہنا چاہئے ، مگر ۔۔۔

سچ بولنے کا مطلب لوگوں کا دل دکھانا نہیں ہوتا۔
سچ پر قائم رہتے ہوئے بھی کسی کی دلآزاری اور تضحیک سے بچا جا سکتا ہے۔
جب کوئی ہمیں " صبح بخیر " کہتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم موسمیاتی رپورٹ لے کر اُسے پکڑ کر بیٹھ جائیں کہ ۔۔۔۔
آج درجۂ حرارت اتنا ہے ، یا بارش پڑنے والی ہے اس لیے دن بخیر کیسے گزر سکتا ہے؟
یہ سچائی کے بارے میں احمقانہ رویہ ہے ‫!

2008/08/23

فنکار اور کرب

کرشن چندر
کرب چاہے کسی قسم کا ہو ، زندگی سے نکل جائے تو فن مر جاتا ہے۔

2008/08/17

چاند گرہن اور صلوٰۃ الکسوف

مورخہ 16۔اگست-2008ء بروز ہفتہ ، رات دس ساڑھے دس بجے کے قریب سعودی عرب کے شہر ریاض میں مکمل چاند گرہن کا مشاہدہ کیا گیا اور شہر کی تمام مساجد میں اذانیں ہوئیں اور صلوٰۃ الکسوف ادا کی گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ اِس وقت رات ساڑھے گیارہ بجے بھی ، چاند کے تین چوتھائی حصے کو گرہن لگا ہوا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‫:
هذه الآيات التي يرسل الله لا تكون لموت أحد ولا لحياته، ولكن يخوف الله به عباده، فإذا رأيتم شيئا من ذلك فافزعوا إلى ذكره ودعائه واستغفاره
چاند اور سورج کا گرہن آثارِ قدرت ہیں۔ کسی کے مرنے ، جینے (یا کسی اور وجہ) سے نمودار نہیں ہوتے۔ بلکہ اللہ (اپنے) بندوں کو عبرت دلانے کے لیے ظاہر فرماتا ہے۔ اگر تم ایسے آثار دیکھو تو جلد از جلد دعا ، استغفار اور یادِ الٰہی کی طرف رجوع کرو۔
صحيح البخاري ، كتاب الكسوف ، باب الذكر في الكسوف ، حديث:1067

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‫:
الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته، ولكنهما آيتان من آيات الله، فإذا رأيتموهما فصلوا
سورج اور چاند میں گرہن کسی کی موت کی وجہ سے نہیں لگتا البتہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں ، اس لیے جب تم گرہن دیکھو تو نماز پڑھو۔
صحيح البخاري ، كتاب الكسوف ، باب لا تنكسف الشمس لموت أحد ولا لحياته ، حديث:1065

2008/08/14

قومیت کی بنیاد ۔۔۔ 'وطن' نہیں بلکہ : "اسلام‫"

اللہ اور اس کے رسول نے جاہلیت کی اُن تمام محدود مادّی ، حسی اور وہمی بنیادوں کو ، جن پر دنیا کی مختلف قومیتوں کی عمارتیں قائم کی گئی تھیں ، ڈھا دیا۔
رنگ ، نسل ، وطن ، زبان ، معیشت اور سیاست کی غیر عقلی تفریقوں کو ، جن کی بنا پر انسان نے اپنی جہالت و نادانی کی وجہ سے انسانیت کو تقسیم کر رکھا تھا ، مٹا دیا اور انسانیت کے مادے میں تمام انسانوں کو برابر اور ایک دوسرے کا ہم مرتبہ قرار دے دیا۔
اس تخریب کے ساتھ انسان نے پھر ایک خالص عقلی بنیاد پر ایک نئی قومیت تعمیر کی۔ اس "قومیت" کی بنا بھی امتیاز پر تھی ، مگر مادّی اور غرضی امتیاز پر نہیں بلکہ روحانی اور جوہری امتیاز پر۔ اس نے انسان کے سامنے ایک فطری صداقت پیش کی جس کا نام "اسلام" پے ‫!
اسلام نے اللہ کی بندگی و اطاعت ، نفس کی پاکیزگی و طہارت ، عمل کی نیکی اور پرہیزگاری کی طرف سارے نوعِ بشر کو دعوت دی۔
پھر کہہ دیا کہ ۔۔۔
جو اس دعوت کو قبول کرے وہ ایک قوم سے ہے
اور جو اس کو ردّ کرے وہ دوسری قوم سے ہے۔

ایک قوم ایمان اور اسلام کی ہے اور اس کے سب افراد ایک امت ہیں۔
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 143 )


اور ایک قوم کفر اور گمراہی کی ہے اور اس کے متبعین اپنے اختلافات کے باوجود ایک گروہ ہیں
وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 264 )


ان دونوں قوموں کے درمیان بنائے امتیاز نسل اور نسب نہیں ، اعتقاد اور عمل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک باپ کے دو بیٹے اسلام اور کفر کی تفریق میں جدا جدا ہو جائیں اور دو بالکل اجنبی آدمی اسلام میں متحد ہونے کی وجہ سے ایک قومیت میں مشترک ہوں۔

وطن کا اختلاف بھی ان دونوں قوموں کے درمیان وجۂ امتیاز نہیں ہے۔ یہاں امتیاز "حق" اور "باطل" کی بنیاد پر ہے ۔۔۔ اور
‫"‬حق" اور "باطل" کا کوئی مخصوص وطن نہیں ہوتا ‫!
ممکن ہے ایک شہر ، ایک محلہ ، ایک گھر کے دو آدمیوں کی قومیتں اسلام اور کفر کے اختلاف کی وجہ سے مختلف ہو جائیں اور ایک پاکستانی رشتۂ اسلام میں مشترک ہونے کی وجہ سے ایک ہندوستانی کا قومی بھائی بن جائے۔

رنگ کا اختلاف بھی یہاں قومی تفریق کا سبب نہیں ہے۔ یہاں اعتبار چہرے کے رنگ کا نہیں ، اللہ کے رنگ کا ہے اور وہی بہترین رنگ ہے ‫:
صِبْغَةَ اللّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ صِبْغَةً
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 138 )

ہو سکتا ہے کہ "اسلام" کے اعتبار سے ایک سفید برطانوی اور ایک سیاہ افریقی کی ایک قوم ہو اور کفر کے اعتبار سے دو گوروں کی دو الگ قومیتیں ہوں۔

زبان کا امتیاز بھی "اسلام" اور "کفر" میں وجۂ اختلاف نہیں ہے۔ یہاں منہ کی زبان نہیں محض دل کی زبان کا اعتبار ہے جو ساری دنیا میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اس کے اعتبار سے عربی اور برصغیری کی ایک زبان ہو سکتی ہے اور دو عربوں کی زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں۔

معاشی اور سیاسی نظاموں کا اختلاف بھی اسلام اور کفر کے اختلاف میں بےاصل ہے۔ یہاں جھگڑا دولتِ زر کا نہیں دولتِ ایمان کا ہے۔ انسانی سلطنت کا نہیں اللہ کی بادشاہت کا ہے۔
جو لوگ حکومتِ الٰہی کے وفادار ہیں ، اور جو اللہ کے ہاتھ اپنی جانیں فروخت کر چکے ہیں وہ سب ایک قوم ہیں خواہ ہندوستان میں ہوں یا پاکستان میں۔
اور جو اللہ کی حکومت سے باغی ہیں اور شیطان سے جان و مال کا سودا کر چکے ہیں وہ ایک دوسری قوم ہیں۔ ہم کو اس سے کوئی بحث نہیں کہ وہ کس سلطنت کی رعایا ہیں اور کس معاشی نظام سے تعلق رکھتے ہیں؟

اس طرح اسلام نے قومیت کا جو دائرہ کھینچا ہے ، وہ کوئی حسّی اور مادّی دائرہ نہیں بلکہ ایک خالص عقلی دائرہ ہے۔ ایک گھر کے دو آدمی اس دائرے سے جدا ہو سکتے ہیں اور مشرق و مغرب کا بُعد رکھنے والے دو آدمی اس میں داخل ہو سکتے ہیں۔
اس دائرہ کا محیط ایک کلمہ ہے ‫:
لا اله الا الله محمد الرسول الله

اسی کلمہ پر دوستی بھی ہے اور اسی پر دشمنی بھی۔
اسی کا اقرار جمع کرتا ہے اور اسی کا انکار جدا کر دیتا ہے۔
جن کو اس نے جدا کر دیا ہے ان کو نہ خون کا رشتہ جمع کر سکتا ہے ، نہ خاک کا ۔ نہ زبان کا ، نہ وطن کا ، نہ رنگ کا ، نہ روٹی کا ، نہ حکومت کا۔
اور جن کو اس نے جمع کر دیا ہے انہیں کوئی چیز جدا نہیں کر سکتی۔ کسی دریا ، کسی پہاڑ ، کسی سمندر ، کسی زبان ، کسی نسل ، کسی رنگ اور کسی زر و زمین کے قضیہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اسلام کے دائرے میں امتیازی خطوط کھینچ کر مسلمان اور مسلمان کے درمیان فرق کرے۔

ہر مسلمان خواہ وہ پاکستان کا باشندہ ہو یا بھارت کا واسی ، گورا ہو یا کالا ، ہندی بولتا ہو یا عربی ، سامی ہو یا آرین ، ایک حکومت کی رعیت ہو یا دوسری حکومت کی ۔۔۔
وہ مسلمان قوم کا فرد ہے ‫،
اسلامی سوسائیٹی کا رکن ہے ‫،
اسلامی اسٹیٹ کا شہری ہے ‫،
اسلامی فوج کا سپاہی ہے ‫،
اسلامی قانون کی حفاظت کا مستحق ہے۔

شریعتِ اسلامیہ میں کوئی ایک دفعہ بھی ایسی نہیں ہے جو عبادات ، معاملات ، معاشرت ، معیشت ، سیاست ، غرض زندگی کے کسی شعبہ میں جنسیت یا زبان یا وطنیت کے لحاظ سے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے مقابلہ میں کمتر یا بیشتر حقوق دیتی ہو۔

کمپوزنگ ، ردّ و بدل و اضافہ : باذوق
بشکریہ : مسئلۂ قومیّت - سید ابوالاعلیٰ مودودی

2008/08/13

سماجی ذمہ داری ۔۔۔

معروف دانشور ادیب ڈاکٹر جمیل جالبی نے ایک جگہ لکھا ہے ‫:
سماجی شعور تخلیقی عمل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے جس کی بدولت ادیب میں دیکھنے کی صلاحیت تیز تر ہوتی جاتی ہے۔ اسی لیے جب میں فن سے وفاداری کے الفاظ استعمال کرتا ہوں تو اس سے میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ادیب انسانی المیوں کی طرف سے آنکھیں بند نہ کر لے ، یہ خود اس کے فن کی بنیاد ہیں۔
فن سے وفاداری کا مطلب یہ بھی ہے کہ یہ بات خود اس کا فن بتائے گا کہ اسے کیا محسوس کرنا ہے اور کیسے محسوس کرنا ہے۔ وہ اس سلسلے میں کسی کسی خارجی قوت یا ادارہ کا پابند نہیں ہے۔
آپ خود سوچئے کہ وہ تمام المیے ، واقعات ، حادثات وغیرہ جو اس دنیا میں اور اس کے اپنے معاشرہ میں ہو رہے ان سے وہ کیسے آنکھیں چرا سکتا ہے؟
ان کو دیکھنا اور اپنے اندر اتارنا اور ان کا اظہار کرنا یہی اس کا فن ہے اور یہی اس کی سماجی ذمہ داری ہے۔


====
اپنی بیاض کا یہ بہت پرانا اقتباس مجھے آج اس لیے یاد آ گیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے المناک اور دلخراش واقعہ کے پس منظر میں ، ابھی ابھی میں نے ایک پروفیسر صاحب کی یہ تحریر اور اپنے ایک دوست کا یہ تاثر پڑھا ہے۔

آئیے سب مل کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں ۔۔۔۔
اے اللہ میری بہن کو محفوظ رکھنا۔ ۔ ۔ کافر درندوں کی قید سے اسے آزادی عطا فرما ۔ ۔ ۔ اس کے بچوں کی حفاظت کرنا ۔ ۔ ۔ اے اللہ میری غفلت پر پردہ ڈال دے اور اس واقعے کو میرے اندر ایمان کی وہ روح پیدا کرنے کا سبب بنا دے جو تجھے مطلوب ہے ۔ ۔ ۔ اے اللہ میری بہن کو اس صورتحال سے دو چار کرنے والوں کو برباد کر دے۔ ۔ ۔
آمین
ثم آمین
یا رب العالمین ‫!!