2009/08/14

آئیے ، ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں !

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

آئیے ، ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں !

14۔ اگست ، 1947ء
﴿ قیام پاکستان پر قوم کے نام قائد اعظم کا تہنیتی پیغام ﴾

اہالیان ِ پاکستان !
میں انتہائی مسرت و شادمانی اور قلبی احساسات کے ساتھ آج آپ کی خدمت میں تہنیت پیش کرتا ہوں۔
14۔ اگست ، ہماری آزادی اور خود مختار مملکت پاکستان کے وجود میں آنے کا دن ہے!

آج کا دن مسلم قوم کی سرخروئی کا دن ہے جس نے اپنا وطن حاصل کرنے کے لیے گزشتہ کئی برسوں میں بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں ۔
اِس انتہائی اہم ساعت میں میرا دل جنگ آزادی کے اُن دلیر مجاہدوں کی یاد سے معمور ہے جنہوں نے پاکستان کو حقیقت بنانے کے لیے اپنا سب کچھ حتیٰ کہ اپنی جانیں تک نثار کر دیں۔ میں اُنہیں یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان ہمیشہ ان کا ممنون احسان رہے گا اور اُن ساتھیوں کو جو ہم میں نہیں ہیں ، ہمیشہ دل سے یاد رکھے گا۔

اِس نئی مملکت کے قائم ہو جانے سے پاکستان کے شہریوں پر زبردست ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ انہیں یہ موقع حاصل ہوا ہے کہ دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دکھائیں کہ کس طرح ایک ایسی قوم جس میں مختلف عناصر شامل ہیں ، آپس میں مل جل کر صلح و آشتی کے ساتھ رہتی ہے اور دین و ذات کا امتیاز کیے بغیر اپنے تمام شہریوں کے لیے یکساں فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے ۔
ہمارا مطمحِ نظر ، امن ہونا چاہئے ۔۔۔ اندرون ملک بھی اور بیرون ملک بھی ۔
ہم صلح و امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔ اور اپنے قریبی پڑوسیوں کے ساتھ اور ساری دنیا کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں ۔
ہم کسی کے ساتھ جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔ ہم اقوام متحدہ کے منشور کے پابند ہیں ۔ اور عالمی امن و خوش حالی کو فروغ دینے میں بخوشی پورا پورا حصہ لیتے رہیں گے ۔

آئیے ! ہم آج کے دن اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر بجا لائیں اور دعا کریں کہ وہ ہمیں اس کا اہل ثابت ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
آج ہماری قومی تاریخ کے تلخیوں سے بھرپور دور کا اختتام ہوتا ہے اور آج ہی کے دن سے ہمارے نئے ، شاندار اور پروقار عہد کا آغاز بھی ہونا چاہئے۔
اپنی سرحدوں کے حریت پسند قبائل اور سرحدوں کے پرے کی مملکتوں کے باشندوں کی خدمت میں ہم تہنیت پیش کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ ان کے مرتبے کا احترام کرے گا اور قیام امن کے سلسلے میں ان کے ساتھ ہمیشہ دوستانہ تعاون کرتا رہے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم خود باعزت طور پر زندگی بسر کریں اور دوسروں کو بھی باعزت زندگی بسر کرنے دیں۔ اس سے زیادہ ہماری کوئی اور تمنا نہیں ۔

آخر میں میرے عزیز ہم وطنو ! میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرزمین عظیم وسائل سے مالا مال ہے ، لیکن اسے ایسا ملک بنانے کے لیے جو مسلم قوم کے شایان شان ہو ہمیں اپنی تمام قوتوں کی آخری رمق تک درکار ہوگی ، اور ۔۔۔
مجھے بھروسہ ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے سب لوگ دل و جاں سے اپنی پوری قوتیں وقف کر دیں گے۔

پاکستان زندہ باد !!!

2009/08/09

اے کاش کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

ہم فتنوں کے دَور سے گزر رہے ہیں !!
تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنوں کی یورش و یلغار ہے۔ بڑے بڑے عقلاء کی عقلیں حیران ہیں کہ کیا کریں ؟
کس مسئلے پر اپنا احتجاج کریں اور کس طرح کریں؟
ہمارا دشمن اسلام دشمنی میں منظم ہے اور اہل اسلام میں انتشار و خلفشار ہے۔
ہم اپنے پاس سب کچھ رکھتے ہوئے بھی دوسروں کے محتاج ہیں ۔۔۔ تہذیب میں ، سیاست میں ، اقتصادیات میں بھی اور تعلیم و تربیت میں بھی۔

یہ آزمائشیں اور فتنے ہمارے اپنے اعمال و عقائد کا نتیجہ ہیں اور اعمال و عقائد کی طرف ہماری مطلقاً توجہ نہیں ۔۔۔ بس ایک ہوس و خواہش کا طوفانِ بلاخیز ہے ، جس میں اپنی اپنی ہمت کے مطابق بلکہ اپنی بساط سے کہیں زیادہ ہم تیر رہے ہیں اور سیراب نہیں ہوتے !

بڑے افسوس کی بات ہے کہ ۔۔۔۔
ہمارے وہ جلسے جس کسی مسئلے پر احتجاج کے لیے منعقد ہوتے ہیں ، ان میں اس بات پر درد و کرب کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ہمارے قرآن کریم کے خلاف جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ نہایت قابل مذمت ہے ، ایسے عناصر زمین پر بوجھ ہیں ، ان کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔
لیکن ۔۔۔۔
اس عنوان پر احتجاج کرنے والے قرآن مجید کے کتنے ہی صریح احکامات کی برسرعام خلاف ورزی کرتے ہیں ، اس پر سوچنے کی کسی کو فرصت نہیں !
اسی لیے قرآن میں ایک ایسی ہی قوم کی مثال میں فرمایا گیا ہے :
کتاب اٹھانے کے باوجود کتاب کے حامل نہیں ہیں ، ان کی مثال ان گدھوں کی سی ہے جن پر کتابوں کا انبار لدا ہوا ہے مگر اس سے بےبہرہ ہیں۔

کاش ۔۔۔۔۔۔
کاش کہ ہم ایسے کڑے وقت میں تدبر اور حکمت عملی سے آگے بڑھیں اور اپنے آپ کو قرآن اور للٰہیت کے رنگ میں مکمل طور پر رنگ لیں جو کہ سب سے اچھا رنگ ہے۔
کاش کہ ہمارا مقصود اتباع قرآن و سنت ہو جائے
کاش کہ ہم اپنے آس پاس کے ماحول کو اسلامی تعلیمات کے بےلوث چراغ سے روشن کر دیں
کاش کہ ہم اپنے ماحول کو قرآن و سنت کا آشنا بنا دیں
کاش کہ ہر حالت میں ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے کی عادت اپنا لیں ۔۔۔
کاش کہ ۔۔۔۔
کاش کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2009/08/04

اشاعتی حقوق (copyrights) ۔۔۔؟!

سافٹ وئر پائریسی سے متعلق یاسر عمران مرزا نے اپنے بلاگ پر ایک نہایت مفید تحریر بعنوان "سافٹ ویر پائریسی، حلال یاحرام" ارسال کی ہے جس پر کافی تبصرے ہوئے ہیں۔
یہ دورِ حاضر کا کچھ سلگتا ہوا سا موضوع ہے کہ امتِ مسلمہ شش و پنج کا شکار ہے۔ حالانکہ اس ضمن میں سعودی عرب کے مفتی شیخ محمد صالح المنجد کے دو فتاویٰ درج ذیل روابط پر موجود ہیں :
تقسيم كرنے كى غرض سے كيسٹيں اور سى ڈيز كاپى كرنا
مختلف قسم كے كاپى شدہ سوفٹ وئر پروگرام استعمال كرنا

اور میرا نہیں خیال کہ کسی بھی مکتبِ فکر کے عالم دین کی طرف سے ان فتاویٰ کو غلط قرار دیا گیا ہو۔ کیونکہ یہ مسئلہ خرید و فروخت کے معاملات سے متعلق ہے جس پر مختلف مکاتبِ فکر میں سنگین اختلافات نہایت ہی کم درجہ پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
پہلے فتوے کا درج ذیل پیراگراف کچھ قابل غور ہے :
بعض اوقات ایسے حالات پیش آ سکتے ہیں جن میں مالک کى اجازت کے بغیر ہى کاپى اور
فوٹو کرنا جائز ہو جاتا ہے، اور یہ دو حالتوں میں ہے‫:
1 - جب مارکیٹ میں نہ ہو، اور ضرورت کى بنا پر کاپى کى جائے، اور خیراتى تقسیم کے لیے ہو اور فروخت کر کے اس سے کچھ بھى نفع نہ حاصل کیا جائے.
2 - جب اس کى ضرورت بہت شدید ہو، اور اس کے مالک بہت زیادہ قیمت وصول کریں، اور انہوں نے اپنے اس پروگرام پر خرچ آنے والى رقم ایک مناسب نفع کے ساتھ وصول کر لى ہو، یہ سب تجربہ کار لوگ جانتے ہیں، تو اس وقت جب مسلمانوں کى مصلحت اس سے معلق ہو تو اسے کاپى کرنا جائز ہے، تا کہ نقصان کو دور کیا جا سکے، لیکن شرط یہ ہے کہ اسے ذاتى مفاد کے لیے فروخت نہ کیا جائے.

یہاں "ذاتی مفاد کے لیے فروخت نہ کرنے (یعنی redistribute)" کی بات کی گئی ہے۔ اور ضرورت کی بنا پر کاپی کرنے کو جائز سمجھا گیا ہے۔
آدمی کی "ضرورت" اور "منافع کا حصول" کا درمیانی فرق مجھے تو کم سے کم یہ نظر آتا ہے کہ پائیریٹیڈ سافٹ وئرز کے ذریعے کمپیوٹر میں اپنا مواد محفوظ رکھنا آدمی کی ضرورت ہے لیکن اسی کمپیوٹر پر پائیریٹیڈ سافٹ وئرز کو کاروباری طریق پر استعمال کرنا ، یہ اس کا منافع ہے۔ سوال یہ ہے کہ بلا اجازت دوسروں کی اشیاء کے سہارے کیا ہم منافع حاصل کر سکتے ہیں اور ایسا منافع جائز ہوگا؟

جہاں تک کتابوں کے حقوق کا معاملہ ہے ۔۔۔۔۔
جب میں نے ابن صفی بلاگ شروع کیا اور بلاگ پر ابن صفی کے بہت سے ناولوں کی پ۔ڈ۔ف فائلوں کے ربط دئے تو ابن صفی کے فرزند محترم احمد صفی صاحب کا اعتراض نامہ وصول ہوا اور انہوں نے کہا کہ ناشر (ابن صفی خاندان) کی اجازت کے بغیر نیٹ پر ان ناولوں کی فراہمی کاپی رائیٹ کی خلاف ورزی ہے۔
میں نے بہرحال روابط ہٹا دئے۔ لیکن بہت سے دوستوں کا اعتراض ہے کہ :
اسلام کا درس تو اوپن سورس ہے ورنہ کتبِ احادیث نہ سامنے آتیں نہ ہم کو دین کا کچھ علم ہوتا
اُن (ابن صفی) کی کتب تو قومی اثاثہ ہیں

ایسا ہی ایک اعتراض یاسر صاحب کی متذکرہ بالا تحریر کے تبصرے میں محمد سعد صاحب نے یوں کیا ہے:
مصنف کو یہ حق تو حاصل ہے کہ اس کی تحریر کو کوئی اور اپنے نام سے نہ چھاپے لیکن یہ نہیں کہ اگر کوئی اسی سے کتاب خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اس پر علم کے دروازے بند کر دے۔

علم کے دروازے بند کرنے کی بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔ پاکستان یا کسی دوسرے ملک کا کوئی علاقہ ایسا پسماندہ تو نہیں کہ وہاں "لائیبریری" کا وجود ہی نہ ہو۔ اگر پسماندہ ہو بھی تو اس کے قصور وار حکومت یا علاقے کے حکام ٹھہریں گے یا مصنفین؟
مانا کہ تبلیغِ علم اہم فریضہ ہے مگر یہ تو ہر عام مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
یہ کہاں کا انصاف ٹھہرا کہ مصنف تو اپنی صلاحیتوں کے بل پر کتاب لکھے ، اسے اپنے خرچے پر شائع کروائے اور پھر علم کے متلاشی غریب غرباء میں فی سبیل للہ مفت بانٹ دے؟
دیگر جو صاحبین استطاعت ہیں ، جو کتاب/کتب کے نسخے خرید کر بانٹ سکتے ہیں ، وہ اپنی ذمہ داری سے بَری ہیں؟
اور وہ جو بلااجازت کتب چھاپ کر منافع اور مشہوری حاصل کریں وہ قابلِ مواخذہ نہیں ہوں گے؟

حقوق کی حفاظت کے معاملے میں ایک واضح صحیح حدیث موجود ہے ، ملاحظہ فرمائیں۔
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه
كسى بھى مسلمان شخص كى اجازت اور رضامندى كے بغير اس كا مال حلال نہيں۔
(صحیح الجامع الصغیر ، کنز الاعمال ، مجمع الزوائد)
علامہ البانی نے اس روایت کو "صحیح الجامع الصغیر" میں صحیح‌ کہا ہے۔