2009/12/27

I love you

بڑا عجیب زمانہ آ گیا ہے۔ زندگی خاصی تیز رفتار ہو گئی ہے۔
ایک طرف نوجوان نسل مغربی تہذیب ، مغربی رسم و رواج سے متاثر ہو رہی ہے تو دوسری طرف جب متنازعہ کارٹون شائع ہوتے ہیں تو ہنگامہ مچ جاتا ہے ، جگہ جگہ مظاہرے کئے جاتے ہیں۔ نوجوان اسلام کی طرف لوٹنا بھی چاہتے ہیں اور وہ آزادی بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے لالچ کا لالی پاپ مغربی تہذیب دکھا رہی ہے۔

I love you
نہایت عام سا محاورہ بن چکا ہے۔ مگر کیا یہ "محبت" ہے؟؟
نہیں۔ یہ تو نوعمری ، نوجوانی کا محض ایک جذباتی لگاؤ ہے۔ جو انسانی نفسیات کے مطابق عمر کے ایک مخصوص عرصہ میں دل و دماغ پر چھا جاتا ہے۔
ایسے ہی مواقع پر نوجوان نوعمر نسل کو ناصحانہ ہمدردی کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ مگر یہ بات وہ کسی سے نہیں کہتے۔ اپنے والدین سے بھی نہیں!
ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ بات خود سمجھتے ہوں اور آگے بڑھ کر اپنی نسل کو ٹوٹنے بکھرنے سے بچاتے ہوں ۔۔۔۔۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو ایسا سوچتے ہیں ؟؟!!

ہمارے دوست رفی صاحب کہتے ہیں :
ہمارے ہاں قرآن و سنت میں کسی بھی معاشرتی پہلو بشمول جنسی امور پر بات کرنے سے ہچکچاہٹ نہیں کی گئی تو پھر کیا وجہ ہے کہ والدین و اساتذہ نئی نسل کو اس کے بارے میں بتانے سے نہ صرف گریز کرتے ہیں بلکہ شروع سے ہی ان کے ذہنوں میں بھر دیا جاتا ہے کہ یہ ایک ناپاک فعل ہے جس پر بات کرنا انتہائی معیوب ہے نتیجتاً معصوم بچے اور بچیاں حیوانیت کا شکار ہو کر بھی اپنے اوپر ہونے والے ظلم و زیادتی کی فریاد اپنے گھروالوں تک نہیں کر پاتے۔

جنس (سیکس) انسانی زندگی کی ایک ناگزیر اور اہم حقیقت ہے، اسے ہوّا سمجھنا ایک فاش غلطی ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں آج تک اسے وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جو اس کا حق تھا ، وہ اہمیت نہ مل سکی جو اسے ملنی چاہئے تھی۔

درحقیقت جنس کا راز ، زندگی اور افزائش نسل کا راز ہے جسے صحت مند طریقے سے سمجھنے اور معلومات حاصل کرنے میں ہماری فلاح و بہبود مضمر ہے۔
نیٹ کی تیز رفتار زندگی کے باوجود آج بھی صحت مند اور مفید جنسی معلومات کے دروازے بند ہیں, خصوصاً ہماری زبان اردو میں۔ جو کچھ انگلیوں کی ٹپ پر گوگلنگ سے سامنے آتا ہے وہ مہذب و مفید معلومات نہیں بلکہ بیشتر اوقات فحاشی کی ترغیب پر مشتمل مواد ہوتا ہے۔ دوسری طرف ۔۔۔۔ والدین خاموش ، اسکول اور کالج کے اساتذہ چپ ، مذہبی پیشوائیان منہ بند کئے ہوئے ۔۔۔۔
لے دے کے کوئی ہمت بھی کرتا ہے تو وہ بھی صرف بےتکلف دوستوں کی محفل میں سرگوشی کی حد تک۔ اور یہ کون "دوست" ہیں؟ وہ خود بھی اس گھٹے ہوئے ماحول کے تربیت یافتہ ہیں جو "جنس" کا واضح ، صحت مند اور اَپ ڈیٹیڈ تصور نہیں رکھتے بلکہ صدیوں سے چلے آ رہے غلط تصورات ، نظریات اور توہمات کو "جنسی علم" سمجھتے رہے ہیں۔

اور بڑے مزے کی بات تو یہ ہے کہ جب نونہالانِ قوم پڑھ کر جوان ہوتے ہیں تو ان سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ اسکول اور کالج کے امتحانات کی طرح ازدواجی زندگی میں بھی کامیابی کا ثبوت دیں گے۔

اگر انسانوں کو اپنے جبلی تقاضوں اور فطری خواہشات کی تکمیل کے لیے علم و فن کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا زندگی کے دیگر تقاضوں کی طرح جنس بھی ایک تقاضا نہیں ہے؟ کیا اس تقاضے کی موثر تکمیل کے لیے علم کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں کہ ہم اس معاملے میں علم کی ضرورت کو نظرانداز کر دیں کہ افزائش نسل میں تو جانور بھی مصروف ہیں اور وہ اس کا کوئی علم حاصل نہیں کیا کرتے!

اولاد کے جوان ہوتے وقت جنسی تبدیلیوں/تقاضوں کو مذہب و تہذیب کے دائرے میں رہ کر انہیں سمجھانا اور اس علم کے سہارے انہیں اپنے جسمانی و ذہنی تحفظ کا خیال دلانا ، والدین اور سرپرستوں کا یقینی فرض بنتا ہے۔

ہمارے سماج نے جنسی مسائل سے متعلق نئی نسل میں صحیح شعور پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ، جس پر نوجوان نسل کی شخصیت کی تعمیر کا انحصار ہے۔ جنسی جبلت کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی گئی جس کی عقلِ سلیم متقاضی ہے بلکہ اسے غیرفطری میلان سمجھ کر دبایا گیا یا پھر موسمی چیز سمجھ کر سرپرستوں / والدین نے نوجوانوں کو اس "موسمی چیز" کے چکھنے سے باز رکھا۔
نتیجہ ؟
ظاہر ہے کہ ان کوتاہیوں/نادانیوں کے سبب سلگتے شباب بھڑک اٹھے اور دہکتی جوانیاں اپنی ہی آگ میں جل کر ڈھیر ہو گئیں اور خاکستر میں بسی کچھ چنگاریاں نفسی امراض کے چنگل میں دم توڑ رہی ہیں۔

2009/12/26

ہجرت کا سبق - ' امید '

ہجرت کے تمام واقعات کا سب سے بڑا سبق "امید" ہے۔
امت ، جو مایوسیوں کے اندھیروں میں ٹھوکریں کھا رہی ہے اس کے لیے ہجرت کا واقعہ "امید کی نئی کرن" دکھاتا ہے۔

چشم فلک نے وہ وقت دیکھا ہے جب اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنی محبوب سرزمین چھوڑنی پڑی۔ نعیم صدیقی اپنی معروف تصنیف "محسنِ انسانیت" میں واقعہ کی عکاسی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
آج مکہ کے پیکر سے اس کی روح نکل گئی تھی۔ آج اس چمن کے پھولوں سے خوشبو اڑی جا رہی تھی، آج یہ چشمہ سوکھ رہا تھا، آج اس کے اندر سے بااصول اور صاحبِ کردار ہستیوں کا آخری قافلہ روانہ ہو رہا تھا۔ دعوتِ حق کا پودا مکہ کی سرزمین سے اُگا لیکن اس کے پھلوں سے دامن بھرنا مکہ والوں کے نصیب میں نہ تھا ، پھر مدینہ والوں کے حصے میں آئے۔ آج دنیا کا سب سے بڑا محسن و خیرخواہ (صلی اللہ علیہ وسلم) بغیر کسی قصور کے بےگھر ہو رہا ہے۔ کلیجہ کٹا ہوگا، آنکھیں ڈبڈبائی ہوں گی، جذبات امڈے ہوں گے مگر خدا کی رضا اور زندگی کا مشن چونکہ اس قربانی کا بھی طالب ہوا، اس لیے انسانِ کامل نے یہ قربانی بھی دے دی۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مکہ کے پہاڑوں ، گلیوں اور وادیوں پر آخری نگاہ ڈالی ، یہی وہ گلیاں، یہی وہ پہاڑ اور وادیاں ہیں جہاں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بچپن گزرا، جہاں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) جوان ہوئے۔ الوداعی نگاہ ڈالتے ہوئے مکہ سے خطاب فرمایا :
خدا کی قسم ! تو اللہ کی سب سے بہتر زمین ہے اور اللہ کی نگاہ میں سب سے بڑھ کر محبوب ہے۔ اگر یہاں سے مجھے نہ نکالا جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔
(ترمذی ، مسند احمد)

اللہ تعالیٰ کی رضا اور مشن کی تکمیل کے لیے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ قربانی بھی دینی پڑی مگر رہتی دنیا تک امت کے لیے ہجرت کا راستہ کھلا چھوڑا۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے فرمان کا مفہوم ہے :
ہجرت کا دروازہ اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوگا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔
(ابوداؤد)
گویا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہجرت کو "تزکیہ" کا ہم معنی قرار دیا ہے۔

ایک اور جگہ پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہجرت کے حقیقی مفہوم کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
حقیقی ہجرت کرنے والا وہ ہے جس نے ان امور سے ہجرت کی (یعنی: ترک کیا) جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
(مسند احمد)

ہجرت کے ایک ایک واقعے میں "امید" کا سبق دہرایا جاتا ہے۔ مایوسیوں کے گرداب میں ڈوبتی اس امت کے دلوں میں امید کے جوت جگانے کی ضرورت ہے کہ ۔۔۔ کس طرح گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نور کی کرن پھوٹتی ہے ، شر کے قلب سے خیر کا پہلو نکلتا ہے اور غموں کے بطن سے خوشی پیدا ہوتی ہے؟
تاریخ کا وہ کون سا دَور ہے جس میں امت کو امتحانوں سے گزارا نہ گیا ہو؟
آج ایک مرتبہ پھر امید کا سبق دہرایا جانا ہے !!
زمینی حقائق کا کہنا ہے کہ چاروں طرف موت منڈلا رہی ہے مگر آسمانی حقیقت کہتی ہے کہ جو اللہ پر بھروسہ کرے گا وہی اس کے لیے کافی ہوگا۔
آج امت چہار سو خطرات کی زد میں ہے۔ امت کے افراد میں سے جو دین پر عمل پیرا ہیں ان کا حال اس شخص سے مختلف نہیں جس نے انگارہ مٹھی میں اٹھا رکھا ہو۔

اس امت کو شروع دن سے سمجھایا گیا ہے کہ ۔۔۔۔۔
تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے، بےشک تنگی کے بعد فراخی بھی ہے۔
(الم نشرح : 5-6)
اس امت کے دین میں مایوسی کفر ہے ۔۔۔
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، اللہ کی رحمت سے مایوس کافر ہی ہوا کرتے ہیں۔
(یوسف : 87)

اللہ کی رحمت ایک مرتبہ پھر ہماری طرف متوجہ ہوگی ، یقیناً اللہ کی رحمت ہم سے قریب ہے۔
ہجرت کا بھولا ہوا سبق ہمیں یاد دلا رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔
تاریکی کے بعد روشنی ہے ،
اندھیرا چھٹنے والا ہے اور
مومنین صادقین صبح صادق کو دیکھ کر خوش ہوں گے۔

یہی ہجرت کا سبق ہے !!


(ماخوذ از مضمون : نظر حجازی)

2009/12/19

لایعنی باتیں اور ہمارا رویہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ لایعنی (غیر مفید) چیز کو ترک کر دے۔

اس ارشادِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو پڑھنے کے بعد خیال ہوتا ہے کہ یہ کون سی خاص ضرورت کی بات ہے ، نہ اس میں کسی ثواب کا ذکر ہے نہ عذاب کا وعدہ اور نہ ہی کسی کام کا حکم ہے۔
لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں یہی خوبی ہے کہ بڑے بڑے مہلک امراض کا علاج نہایت معمولی باتوں میں کر دیتے ہیں۔
یہ بظاہر معمولی بات ہے لیکن اس کو بجا لانے میں جو منافع ہیں اور ترک میں جو نقصان ہیں ان کو معلوم کر کے اس کی ضرورت و اہمیت واضح ہوگی۔
اس تعلیم سے بڑی غفلت ہے اور عوام و خواص سب کو ہے۔ گناہ سے تو سب کو ندامت ہوتی ہے لیکن "لایعنی امور" کا ارتکاب کر کے کسی کو ندامت نہیں ہوتی۔ چنانچہ غیبت کر کے پچھتاوا ہوتا ہے مگر ہنسی دل لگی کر کے کوئی نہیں پچھتاتا کہ اے اللہ ! میں نے فضول وقت ضائع کیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
کثرتِ کلام دل کو سخت کر دیتا ہے اور زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ "لایعنی باتوں" سے دل مردہ ہو جاتا ہے اور نور جاتا رہتا ہے۔ نورِ قلب زائل ہونے سے طاعت کا شوق کم ہوتا ہے اور ہمت میں پستی آ جاتی ہے۔ اور جہاں شوق و ہمت میں کمی آئی وہیں گناہ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کیونکہ گناہوں سے بچنے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے : ایک شوق و محبت دوسرے ہمت۔

آخر کچھ تو وجہ ہے کہ ہمارے ہاں عمل میں بہت کوتاہی ہے۔ نمازیں بھی پڑھتے ہیں ، وضو بھی کرتے ہیں لیکن گناہ بھی کثرت سے کرتے ہیں۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ نماز اور وضو سے قلب میں جو نور پیدا ہوتا ہے وہ "لایعنی امور" سے زائل ہو جاتا ہے۔

اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کبھی کبھی "لایعنی امور" بھی ضروری ہو جاتے ہیں۔
مثلاَ : حدیث میں ہے کہ جب نماز پڑھتے پڑھتے نیند آنے لگے تو سو جاؤ۔
مثلاَ : امام غزالی (علیہ الرحمة) نے لکھا ہے کہ جب ذکر سے دل اکتا جائے تو ذاکر پر تھوڑی دیر ہنسنا بولنا واجب ہے۔

مختصر یہ کہ ہر پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے اس حدیث پر عمل کیا جائے تو دل میں ایسا نور اور اطمینان رہے گا کہ اس دولت کے سامنے سلطنت بھی ہیچ معلوم ہو جائے گی کیونکہ اصل راحت اسی کا نام ہے کہ دل کو چین و سکون ہو !!


(مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمة کے مضمون سے مفید اقتباس)

2009/12/11

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن ۔۔۔

25 نومبر 2009ء کو جدہ میں ہونے والی طوفانی بارش نے جہاں جدہ (سعودی عرب) کے شہریوں کو بے شمار غم اور دردناک سانحوں سے دوچار کیا ہے وہیں انسانیت نواز واقعات نے تمام فرزندانِ اسلام خصوصاً پاکستانی کمیونٹی کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
32 سالہ پاکستانی نوجوان فرمان علی خان نے 14 افراد کی جان بچا کر 15 ویں شخص کو بچاتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون

سعودی عرب کے اخبارات نے فرمان علی خان کی جراتمندانہ شہادت کو بہترین الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ جدہ کے شہری اس کی ہمت، انسانیت نوازی اور ایثار کے جذبے کا تذکرہ بڑے فخر و ناز اور انتہائی ممنونیت سے کر رہے ہیں۔
فرمان علی خان کے بڑے بھائی رحمٰن علی خان نے الحیاۃ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنے بھائی کی موت کا دکھ بےشک ہے لیکن جس انداز سے اس نے جامِ شہادت نوش کیا اس پر ہم سب پہلے تو رب کریم کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے ہیں اور پھر بھائی کے کارنامے پر نازاں بھی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کے فرمان علی خان کراٹے کا چیمپیئن تھا۔اس نے جدہ میں آنے والے تاریخی سیلاب سے ٹکر لینے کی کوشش کی اور سیلاب کے جبڑوں سے 14 افراد کو نکالنے میں کامیاب ہوا، تاہم سیلاب نے اسے آخرت کے سفر پر روانہ کر دیا۔
یونیورسٹی گریجوایٹ فرمان علی دیگر رضاکارانہ سرگرمیوں کی توصیفی اسناد سے بھی اپنے سینے کو سجائے ہوئے تھا۔ ابھی وہ 16 برس کا ہی تھا کہ اس نے ایک آتشزدہ مکان میں داخل ہو کر گیس سیلنڈر نکال کر پورے محلے کو خوفناک المیے سے بچا لیا تھا۔ فرمان علی 6 برس قبل مملکت آیا تھا، اس کی تین بیٹیاں، زبیدہ (7 برس)، مدیحہ (6) برس اور جریرہ (4 برس) ہیں۔ 6 سالہ قیام کے دوران صرف دو مرتبہ ہی پاکستان گیا تھا اور سب سے چھوٹی بیٹی کو دیکھ بھی نہیں پایا تھا۔

اللہ اسے جنت الفردوس میں اعلٰی مقام سے سرفراز کرے۔ آمین !

فرمان علی کو جمعرات 10-ڈسمبر-2009ء کی دوپہر ان کے آبائی علاقے سوات میں سپردخاک کر دیا گیا۔

اس موقع پر فرمان علی کے بھائی محمد عزیز اور ان کے والد عمررحمان نے بتایا کہ خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ کی جانب سے بھی ہمارے بھائی کے کارہائے نمایاں پر انہیں تعریفی سند سے بھی نوازا گیا ہے۔

دریں اثنا فیس بک پر سعودی نوجوانوں نے متعلقہ سعودی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فرمان علی کے خاندان کو مالی امداد فراہم کی جائے اور جدہ کی ایک سڑک کو اس کے نام سے موسوم کیا جانا چاہئے۔

(خبر بشکریہ : اردو نیوز ، سعودی عرب)

ہمارے دوست رفی بھائی نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بالکل بجا فرمایا ہے کہ :
جہاں یہ واقعہ اسلام میں انسانیت کی قدروں میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے وہیں پاکستان میں ہونے والے آئے روز کے خودکش دھماکوں نے پاکستان اور اسلام کو سرنگوں کرنے کی مکروہ سازش جاری رکھی ہوئی ہے۔
اللہ سب مسلمانوں کو ایسا جذبہ عطا کرے کہ مشرق سے مغرب تک کہیں بھی نہ صرف مسلمان بلکہ کوئی بھی انسان دکھ درد میں مبتلا ہو تو ان کی مدد اپنی جان پر کھیل کر کی جائے نہ کہ مساجد میں مشغولِ عبادت افراد کی جانیں لے کر اسلام کو بدنام کیا جائے!

2009/12/05

کامیابی کے گُر

دنیا میں لوگوں کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔
ایک : وہ لوگ جو اپنے ذاتی تجربات سے سیکھتے ہیں۔ یہ عقلمند لوگ ہوتے ہیں۔
دو : وہ لوگ جو دوسروں کے تجربات سے سیکھتے ہیں۔ یہ خوش باش لوگ ہوتے ہیں۔
تین : وہ لوگ جو نہ اپنے تجربات سے کچھ سیکھتے ہیں اور نہ دوسروں کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ یہ بےوقوف اور نادان لوگ ہوتے ہیں۔

سڑک کے کنارے مایوس کھڑے ہو کر وہاں سے گزرنے والے امیر اور کامیاب آدمیوں کو دیکھ کر ان سے حسد کرنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے۔ عقلمندی یہ ہے کہ ہم ان میں وہ جوہر تلاش کریں جن کے سبب انہوں نے یہ مقام حاصل کیا۔
ایک کامیاب انسان بھی زندگی میں پریشانیوں اور ناکامیوں کا سامنا کر سکتا ہے۔ لیکن کامیاب لوگ اس حقیقت سے واقف ہوتے ہیں کہ کسی مصیبت کے بغیر کوئی سکون نہیں۔ کسی دکھ کے بغیر کوئی سکھ نہیں۔ کسی رنج کے بغیر کوئی راحت نہیں۔ کسی کوشش کے بغیر کوئی کامیابی نہیں !

یاد رکھنا چاہئے کہ وہ کامیابی جو راتوں رات حاصل کی جاتی ہے وہ صبح طلوع ہونے سے قبل ختم ہو جاتی ہے۔
پائیدار خوشیاں اور کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے اپنی شخصیت کی کمزوریوں پر قابو پانا اور ناکامی پر کڑھنے کے بجائے نئے حوصلوں کے ساتھ جدوجہد کرنا ہوگا۔