2010/07/25

محبت کے عملی تقاضے ۔۔۔۔ !

بات گھوم پھر کر وہیں آ جاتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہمیں کس سے محبت ہوگی ؟

ایمان کا تقاضا ہے کہ ہماری محبت کا مرکز ہمارے پیارے رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہو۔ ماں باپ بیوی بچے ، دوست احباب رشتہ دار اقرباء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقدم رکھیں ، دنیا کی محبوب سے محبوب ترین شے سے زیادہ محبت ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔

مگر ۔۔۔۔۔۔۔
اس محبت کے تقاضے بھی تو ہوں گے۔
ماں کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے تو اولاد کے چھوٹے سے چھوٹے کام کو رغبت و خوشی سے انجام دیتی ہے ۔۔۔ کھانا کھلانا ہو ، نہلانا دھلانا ہو ، سلانا جگانا ہو ، لکھانا پڑھانا ہو ۔۔۔۔ ماں کبھی بیزار نہیں ہوگی کہ یہ کام اولاد سے اس کی محبت کا تقاضا ہیں۔
باپ کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے تو اولاد کی مناسب دیکھ بھال ، ان کی تعلیم و تربیت ، ان کی رہائش ، لباس ، خورد و نوش اور دیگر انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر دم ہر لمحہ ہر پل محنت و مشقت میں لگا رہے گا کہ یہ تمام کام اولاد سے اس کی محبت کا اظہار ہیں۔
شوہر کو بیوی سے یا بیوی کو شوہر سے محبت ہوتی ہے تو جانبین ایک دوسرے کے جذبات و احساسات ، حوائج و ضروریات ، آراء و مشورہ جات ، کا خیال رکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کے تئیں محبت کا جذبہ سدا بہار رہے۔

ذرا سوچئے کہ ۔۔۔۔۔
اگر ماں رشتہ داروں کے حلقہ میں صرف شور مچائے کہ وہ اپنی اولاد سے نہایت ہی محبت رکھتی ہے مگر اولاد کے کسی بھی کام میں ذرہ برابر دلچسپی نہ لے
باپ معاشرے میں پروپگنڈہ برپا کرے کہ وہ اپنی اولاد کو نہایت عزیز رکھتا ہے مگر اولاد کی ذمہ داریوں کے تئیں غفلت پر غفلت کرتا رہے
شوہر اپنے دوستوں کے حلقے میں نعرہ لگائے کہ وہ اپنی بیوی کو بہت بہت چاہتا ہے مگر بیوی کے جذبات و احساسات و ضروریات کا بالکل بھی خیال نہ رکھے ۔۔۔۔۔

تو اس طرح کا شور ، پروپگنڈہ ، نعرہ بازی ۔۔۔۔ محبت کا اظہار کہلائے گی ؟ محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا اعلان شمار ہوگی ؟؟

اگر نہیں ۔۔۔۔
اور یقیناً نہیں تو ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ ہمارے ہاں پھر یہ دو رُخی کیوں ہے؟؟

ہم اپنے پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت کے لمبے چوڑے زبانی دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر ۔۔۔۔۔
مگر اس محبت کے جو شرعی و اخلاقی تقاضے ہیں ۔۔۔۔ کیا ہم ان کو صدقِ دلی سے پورا کرتے ہیں؟ یا پھر وقتاً فوقتاً نعروں یا پروپگنڈا بازی سے ہی کام نکالتے ہیں ؟؟

یہ کیسا حُب رسول ہے جس بات کا نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) حکم دیں ، اسے صرف سن لیا جائے اور جب عمل کرنے کی باری آئے تو سب فراموش اور اپنے نفس کی ہی بات مانی جائے ۔۔۔۔ ؟

کسی ادیب نے اپنے ایک افسانے میں ایک بہت اچھی بات کچھ یوں تحریر فرمائی تھی :
لال پیارا ہے تو لال دو۔ مال عزیز ہے تو مال بانٹ دو۔ حسن پر غرور ہے تو حسن صدقے میں اُتار دو۔ انا بیچ میں آ رہی ہو تو اسے قربان کر دو۔ سب سے عزیز چیز ، سب سے پیاری شے ، جان سے اچھی تمنا ، اور نہیں تو عزیز ترین لمحہ ہی کسی کو دے دیں ۔
یہی اپنی ذات کی نفی ہے ۔
اپنی ذات کی نفی کرنے والے اور اللہ کی ذات کو برحق ماننے والے ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کو بہت بہت پسند ہیں ۔

فرمایا گیا ہے :
تم تقویٰ کی اعلیٰ منزل تک پہنچ ہی نہیں سکتے جب تک تم اپنی وہ چیز دوسروں کی نذر نہ کر دو جو تمہیں سب سے زیادہ پیاری ہو ۔
( سورة آل عمران : 3 ، آیت : 92 )

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسوۂ حسنہ پر صدقِ دلی سے چلنے کی توفیق عطا فرمائے ، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تعلیمات اور احکام پر عمل کے متعلق ہم سب کے دلوں میں کشادگی کو جگہ دے اور کسی تنگی کو راہ نہ دے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ہماری محبت کو قلبی ، عقلی ، وجدانی اور جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ بھرپور طور سے عملی بھی بنا دے ۔۔۔۔۔۔
آمین یا رب العالمین !

2010/07/16

جو شخص کسی مسلم پر پردہ ڈالے ۔۔۔

اردو بلاگنگ کی حالیہ متنازعہ لہر کے حوالے سے میں کچھ عرصہ سے خاموشی سے جائزہ لے رہا تھا۔ لیکن نعمان کی اس تحریر کا درج ذیل اقتباس کافی اہم محسوس ہوا :
اردو بلاگستان میں ایک خطرناک رویہ جو پرورش پارہا ہے وہ یہ ہے کہ لوگ موضوعات کے بجائے لوگو.ں پر تحاریر لکھنے لگے ہیں۔ میلوں دور بیٹھ کر ایک دوسرے کی شخصیت اور کردار کے نقوش کی ہولناکی وضع کرنے میں اپنی لفاظیت اور روایتی پنجابی جگت سازی کے تمام گر آزما رہے ہیں۔ حماقت یہ ہے کہ وہ کبھی ایکدوسرے سے ملے بھی نہیں۔ مگر کردار کشی کے شوق سے سرشار انہیں یہ کام سب سے آسان اور دلچسپ نظر آتا ہے۔
نیٹ کی اردو کمیونیٹی کے ایک طویل عرصہ کے میرے اپنے تجربے اور مشاہدے کے مطابق صرف اردو بلاگستان نہیں ، بلکہ اردو کے نام پر جتنی ویب سائیٹس ، فورمز ، گروپس (یاھو ، گوگل وغیرہ) ، چیٹ رومز ، بلک [bulk] ایمیل فارورڈنگ وغیرہ جاری ہیں ، تقریباً سب جگہ یہ بدترین اور قابل اعتراض صورتحال موجود ہے۔
اگر ساری دنیا کے مقابلے میں برصغیری ماحول کا تقابل کیا جائے تو فیصد کچھ زیادہ ہی نظر آئے گا۔ بنیادی وجہ شائد یہی ہو کہ اپنے گریبان میں جھانکے بغیر خود کو فرشتہ اور مقابل کو شیطان یا فرعون سمجھا اور باور کرایا جائے۔

مرد و زن ، دونوں ہی طرف سے اکثر اوقات دردِ دل لئے معاشرہ کی اصلاح کے لئے نکلا جاتا ہے تو کبھی دین کی خدمت کی غرض کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے ۔۔۔۔ مگر عموماً اپنے متضاد اعمال ، غلط سوچ ، اور لاپرواہ قلم سے ، اصلاح کے دعویدار نہ معاشرہ کی اصلاح کر پاتے ہیں اور نہ ہی دین کی خدمت بلکہ دانستہ یا نادانستہ ان کا مقصد فتنہ و فساد برپا کرنا اور شر پھیلانا ہوتا ہے چاہے اس کے لئے کسی حد تک کیوں نہ جانا پڑے۔

ذرا سوچئے کہ کتنا سچ فرمایا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ :
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت
جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔
(صحیح بخاری ، كتاب الادب)


ہر ناقص بات جو ذہن میں آئے ، ہر منفی سوچ جس پر نفس اکسائے ، ہر برا رویہ جو مشتعل کرے ۔۔۔۔ ضروری نہیں ہے کہ اسے بیان بھی کیا جائے چاہے "مزاح" کے نام پر یا چاہے مظلومیت کے ناتے سہی۔
اگر ہر خرابی بیان کرنے والی ہوتی تو خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اللہ عز و جل کی طرف سے اُس وقت ٹوکا نہ جاتا (آل عمران : 128) جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کفار پر لعنت کر رہے تھے۔ جب کفار پر لعنت کرنے سے رب نے منع کیا تو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ ہم کیسے مسلمان ہیں کہ اپنے ہی بھائی کا گوشت نوچنے سے باز نہیں آتے!

کسی کی ذات کے متعلق غلط سلط اندازے لگائے جائیں یا کسی کی مفروضہ یا حقیقی خامیوں کو اجاگر کیا جائے یا جلے دل کے پھپھولے پھوڑے جائیں ۔۔۔۔۔ ان تمام کاموں سے بہتر کام تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنت ہے جو واشگاف الفاظ میں یوں بیان ہوئی ہے :
من ستر مسلما ستره الله في الدنيا والآخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه
جو شخص کسی مسلم پر پردہ ڈالے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں پردہ ڈالے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں (رہتا) ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں (رہتا) ہے۔
(صحیح مسلم ، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ)

اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو علم و عمل کی توفیق سے نوازے ، آمین یا رب العالمین !!