2011/03/09

آخر قرآن کیوں جلے؟

کچھ دن پہلے ایک اردو کتاب اس عنوان سے منظر عام پر آئی ہے :
میں نے بائبل سے پوچھا قرآن کیوں جلے؟
اس کے مولف ہیں : مولانا امیر حمزہ۔
اس کتاب کو پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ ڈاؤن لوڈ لنک اس تحریر کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔
یہ کتاب دراصل اس اشتعال انگیز پروپگنڈے کا علمی و تحقیقی جواب ہے جو کچھ پراگندہ ذہن لوگ قرآن کریم کے خلاف برپا کرنے پر تلے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو ان کے برے انجام سے جلد از جلد دوچار کرے۔

اس میں شک نہیں کہ شیخ امیر حمزہ کی یہ ایک اور منفرد اور مفید کتاب ہے۔ خاص طور پر انہوں نے جس قدر عرق ریزی سے تحقیق کی ہے اور جتنی اہم کتب (عہدنامہ قدیم ، باتصویر بائبل ، یہود سے متعلق انسائیکلوپیڈیا) کو کنگھالا ہے اس کی داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی جلد سے جلد پیش کیا جائے۔
مگر ۔۔۔۔۔۔
انگریزی میں یہ کتاب پیش کرنے کیلئے کتاب کے اسلوب اور لب و لہجہ کی موثر تبدیلی نہایت ناگزیر امر ہے۔
ذاتی طور پر مجھے خود اس اردو کتاب کے لب و لہجہ پر اعتراض ہے۔ شیخ محترم کی علمیت و ادبی حیثیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر مختلف موضوع ایک مختلف اسلوب و انداز کا متقاضی ہوتا ہے۔
ایک عام مسلمان کو دین کے حوالے سے فخر و غرور یا جذباتیت میں ضرور مبتلا کیا جا سکتا ہے لیکن مذہب سے کچھ دور اور مادیت پرستی میں مشغول روشن خیال یا وسیع الذہن انسان (مسلم یا غیر مسلم) کو جذباتیت یا اشتعال انگیز اندازِ تقابل ادیان سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ یہ کتاب ایسے ہی "روشن خیال" طبقے کیلئے تحریر کی گئی ہے۔ خطیبانہ ، جذباتی اور روایتی مذہبی برہم آمیز انداز میں ایسے طبقے کو متاثر کرنے کی کوشش کرنا کارعبث ہے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ اس کتاب کا تعارف کرواتے ہوئے پروفیسر حافظ محمد سعید نے لکھا کہ : اس کتاب سے خاص طور پر وہ مسلمان زیادہ فائدہ اٹھا سکیں گے جو مغرب سے بہت متاثر ہیں۔
حالانکہ حافظ صاحب کو یہ بھی پتا ہوگا کہ جو مسلمان مغرب سے مرعوب و متاثر ہے وہ کبھی ایسے جذباتی اور مقابل کو کمتر و حقیر و غاصب و ظالم جتانے والے لب و لہجے کو ہرگز پسند نہیں کرتا ، اور اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جب وہ ایسے جذباتی جملے یا فقرے یا القاب پڑھتا ہے ۔۔۔۔۔
ارے نادانو ۔۔۔ ارے ظالمو ۔۔۔ اپنی ننگی ذہنیت کو تہذیب کا لباس پہناؤ ۔۔۔ کیا تجھے ابھی تک پتا نہیں چلا کہ گولی مار کر وہ اپنے مذہب پر عمل کر رہا تھا ۔۔۔ ظالمو تم جانوروں سے بدتر ہو ۔۔۔۔۔
تو بیزاری سے کتاب کو بازو رکھ دیتا ہے !

بہرحال ۔۔۔۔۔
اس قدر نہایت اچھی ، قابل قدر اور علمی و تحقیقی کتاب کی اشاعت سے قبل دیگر معاصر علمائے کرام (مثلاً : حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ ، جنہوں نے بہترین علمی و غیرجذباتی انداز میں مولانا مودودی علیہ الرحمۃ کی "خلافت و ملوکیت" کا جواب دیا تھا) سے رائے و مشورہ کر لیا جاتا اور کتاب کے لب و لہجے میں روایتی خطابت کے بجائے مکمل علمی سنجیدگی کو بروئے کار لایا جاتا تو اس کی افادیت میں مزید دو چند بلکہ چہار چند اضافہ ہوجانا ناممکن نہیں تھا۔

کتاب کے لب و لہجے سے قطع نظر ، جو لوگ تقابل ادیان میں دلچسپی رکھتے ہیں ، یا جو لوگ اپنے غیرمسلم ساتھیوں کو قرآن کریم کی حقانیت اور اس میں موجود انبیاء و رسل کی عزت و توقیر کے واقعات و حکایات سے واقف کروانا چاہتے ہوں ، ان کے لیے یہ ایک قابل مطالعہ اور نہایت ہی معلوماتی کتاب ہے۔

***
کتاب کا عنوان : میں نے بائبل سے پوچھا قرآن کیوں جلے؟
مولف : مولانا امیر حمزہ
ناشر : دار الاندلس
صفحات : 162
پی۔ڈی۔ایف فائل سائز : 3.1 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ لنک : me-ne-bible-se-pocha-quraan-qiyo-jale

1 comment:

  1. mai ny abhi book parhi to nai hai but i hope after reading dis book all people specially muslims like dis so plz read carefully and decsion is u r own hand

    ReplyDelete