2011/03/27

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی کچھ تازہ تصاویر

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اس ہفتہ اتفاق سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زیارت کا موقع نصیب ہوا تھا۔ ہمارے ایک عزیز دوست عتیق الرحمٰن بھائی لندن سے بغرض عمرہ سعودی عرب تشریف لائے تھے۔ ان سے ملاقات کا ارادہ تھا جو الحمدللہ پورا ہوا اور کافی طویل عرصہ کی نیٹ-دوستی میں دوبدو ملاقات کا شرف بھی پہلی بار حاصل ہوا۔

ان دنوں عمرہ کا سیزن چل رہا ہے۔ اس لیے حرمین شریفین میں بےپناہ ہجوم ہے۔ اطلاعات کے مطابق ترکی کے زائرین سب سے زیادہ تعداد میں تشریف لائے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر پاک و ہند کے زائرین ہیں۔

اللہ تعالیٰ سب کی عبادتوں اور دعاؤں کو قبول فرمائے ، امت مسلمہ کو حفظ و امان میں رکھے اور عالم اسلام کو سربلندی عطا فرمائے ، آمین یارب العالمین۔

اس موقع پر حرمین شریفین کی کچھ تازہ تصاویر ملاحظہ فرمائیں۔

مسجد الحرام (مکہ مکرمہ) کا اندرونی منظر
بروز جمعہ 25-مارچ-2011ء ، بوقت : صبح 7 بجے

مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کا بیرونی منظر ، گنبد خضرا
بروز جمعرات 24-مارچ-2011ء ، بوقت : علی الصبح 4 بجے

مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کا بیرونی منظر ، مرکزی دروازہ باب الفہد (قریبی منظر)
بروز جمعرات 24-مارچ-2011ء ، بوقت : صبح 10 بجے

مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کا بیرونی منظر ، مرکزی دروازہ باب الفہد
بروز جمعرات 24-مارچ-2011ء ، بوقت : صبح 10 بجے

2011/03/11

سعودی عرب میں یوم الغضب ؟؟

حسب روایت بی بی سی نے اپنی پراگندہ ذہنی کے طور پر ایک خبر کی سرخی یوں لگائی ہے :
سعودی عرب میں یوم الغضب

کون سا یوم الغضب ؟
اور کس معاملے پر لوگوں میں غیض و غضب پیدا ہوا ہے یا ہو رہا ہے؟
مٹھی بھر شرپسند افراد کا وہ "احتجاج" جو فیس بک جیسی متنازعہ سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹ کے ذریعے ہوّا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور یوں کہ جیسے انسانی حقوق کی لرزہ خیز حق تلفی کی جا رہی ہو؟
واہ !! بڑا اچھا مذاق ہے !

مغربی و صیہونی ایجنسیوں کی پشت پناہی کے ذریعے چلانے جانے والی اس سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹ کے متعلق ذرا گوگل پر صاحبان عقل و دانش تحقیق تو کر دیکھیں۔ پتا چلے گا کہ کس قدر دوغلی فکر و نظر کی اشاعتِ عام ہو رہی ہے۔
جب مسلمانوں کے عظیم ترین مذہبی رہنما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف واہیات کارٹون شائع ہوتے ہیں اور ساری دنیا میں مسلمان احتجاج کرتے ہیں تب ۔۔۔۔۔ ؟
تب یہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کا نام جپنے والی تنظیمیں مسلمانوں کی حمایت میں آگے آ کر بیان کیوں نہیں دیتیں؟
دنیا بھر کے مسلمانوں کا احتجاج ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں رکھتا اور چند متعصب سرپھروں کی آزادئ رائے کا اظہار ان کے نزدیک اہم ہے ؟؟
سبحان اللہ۔ قربان جائیے اس آزادئ رائے پر۔

سعودی عرب ، دنیا کا شائد وہ واحد ملک ہے جہاں جرائم کی شرح نہایت ہی کم ہے۔ کیا یہ ہی وجہ ہے کہ یہ ملک غیروں کی نگاہوں میں کھٹک رہا ہے؟

دوسری طرف امریکہ کے 35 ویں امیر ترین فرد اور فیس بک کے مالک نے دنیا کے غریب اور ضرورت مندوں کی کیا خدمات انجام دی ہیں؟
بلکہ ان محترم کے بارے میں تو کہا گیا ہے کہ :
He's created a global network of friendships, but ruthlessly betrayed his own friends.

جو لوگ مغربی میڈیا سے مرعوب و متاثر ہیں ، کم از کم انہیں کچھ تحقیق بھی کر لینا چاہئے کہ جتنا کچھ انہیں بتایا یا جتایا جا رہا ہے ، ان کے پس پردہ اصل حقائق کیا ہیں؟

2011/03/09

آخر قرآن کیوں جلے؟

کچھ دن پہلے ایک اردو کتاب اس عنوان سے منظر عام پر آئی ہے :
میں نے بائبل سے پوچھا قرآن کیوں جلے؟
اس کے مولف ہیں : مولانا امیر حمزہ۔
اس کتاب کو پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ ڈاؤن لوڈ لنک اس تحریر کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔
یہ کتاب دراصل اس اشتعال انگیز پروپگنڈے کا علمی و تحقیقی جواب ہے جو کچھ پراگندہ ذہن لوگ قرآن کریم کے خلاف برپا کرنے پر تلے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو ان کے برے انجام سے جلد از جلد دوچار کرے۔

اس میں شک نہیں کہ شیخ امیر حمزہ کی یہ ایک اور منفرد اور مفید کتاب ہے۔ خاص طور پر انہوں نے جس قدر عرق ریزی سے تحقیق کی ہے اور جتنی اہم کتب (عہدنامہ قدیم ، باتصویر بائبل ، یہود سے متعلق انسائیکلوپیڈیا) کو کنگھالا ہے اس کی داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی جلد سے جلد پیش کیا جائے۔
مگر ۔۔۔۔۔۔
انگریزی میں یہ کتاب پیش کرنے کیلئے کتاب کے اسلوب اور لب و لہجہ کی موثر تبدیلی نہایت ناگزیر امر ہے۔
ذاتی طور پر مجھے خود اس اردو کتاب کے لب و لہجہ پر اعتراض ہے۔ شیخ محترم کی علمیت و ادبی حیثیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر مختلف موضوع ایک مختلف اسلوب و انداز کا متقاضی ہوتا ہے۔
ایک عام مسلمان کو دین کے حوالے سے فخر و غرور یا جذباتیت میں ضرور مبتلا کیا جا سکتا ہے لیکن مذہب سے کچھ دور اور مادیت پرستی میں مشغول روشن خیال یا وسیع الذہن انسان (مسلم یا غیر مسلم) کو جذباتیت یا اشتعال انگیز اندازِ تقابل ادیان سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ یہ کتاب ایسے ہی "روشن خیال" طبقے کیلئے تحریر کی گئی ہے۔ خطیبانہ ، جذباتی اور روایتی مذہبی برہم آمیز انداز میں ایسے طبقے کو متاثر کرنے کی کوشش کرنا کارعبث ہے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ اس کتاب کا تعارف کرواتے ہوئے پروفیسر حافظ محمد سعید نے لکھا کہ : اس کتاب سے خاص طور پر وہ مسلمان زیادہ فائدہ اٹھا سکیں گے جو مغرب سے بہت متاثر ہیں۔
حالانکہ حافظ صاحب کو یہ بھی پتا ہوگا کہ جو مسلمان مغرب سے مرعوب و متاثر ہے وہ کبھی ایسے جذباتی اور مقابل کو کمتر و حقیر و غاصب و ظالم جتانے والے لب و لہجے کو ہرگز پسند نہیں کرتا ، اور اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جب وہ ایسے جذباتی جملے یا فقرے یا القاب پڑھتا ہے ۔۔۔۔۔
ارے نادانو ۔۔۔ ارے ظالمو ۔۔۔ اپنی ننگی ذہنیت کو تہذیب کا لباس پہناؤ ۔۔۔ کیا تجھے ابھی تک پتا نہیں چلا کہ گولی مار کر وہ اپنے مذہب پر عمل کر رہا تھا ۔۔۔ ظالمو تم جانوروں سے بدتر ہو ۔۔۔۔۔
تو بیزاری سے کتاب کو بازو رکھ دیتا ہے !

بہرحال ۔۔۔۔۔
اس قدر نہایت اچھی ، قابل قدر اور علمی و تحقیقی کتاب کی اشاعت سے قبل دیگر معاصر علمائے کرام (مثلاً : حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ ، جنہوں نے بہترین علمی و غیرجذباتی انداز میں مولانا مودودی علیہ الرحمۃ کی "خلافت و ملوکیت" کا جواب دیا تھا) سے رائے و مشورہ کر لیا جاتا اور کتاب کے لب و لہجے میں روایتی خطابت کے بجائے مکمل علمی سنجیدگی کو بروئے کار لایا جاتا تو اس کی افادیت میں مزید دو چند بلکہ چہار چند اضافہ ہوجانا ناممکن نہیں تھا۔

کتاب کے لب و لہجے سے قطع نظر ، جو لوگ تقابل ادیان میں دلچسپی رکھتے ہیں ، یا جو لوگ اپنے غیرمسلم ساتھیوں کو قرآن کریم کی حقانیت اور اس میں موجود انبیاء و رسل کی عزت و توقیر کے واقعات و حکایات سے واقف کروانا چاہتے ہوں ، ان کے لیے یہ ایک قابل مطالعہ اور نہایت ہی معلوماتی کتاب ہے۔

***
کتاب کا عنوان : میں نے بائبل سے پوچھا قرآن کیوں جلے؟
مولف : مولانا امیر حمزہ
ناشر : دار الاندلس
صفحات : 162
پی۔ڈی۔ایف فائل سائز : 3.1 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ لنک : me-ne-bible-se-pocha-quraan-qiyo-jale