2007/03/17

شعر فہمی

٭٭
شعر کو سمجھنے کے لیے چند باتوں کا ایک ساتھ خیال رکھنا ضروری ہے ‫:
‫>> سننے والے کا شعری ذوق بہت تربیت یافتہ ہونا چاہئے۔
‫>> سننے والے کی ذہنی و علمی سطح وہی ہونی چاہئے جو شاعر کی ہے۔
‫>> سننے والا اپنے ذہن میں پہلے سے حدود قائم نہ کرے یا کسی قسم کی شرط نہ لگائے۔
سننے والے کے اندر اگر مندرجہ بالا تین باتوں میں سے کسی ایک کی بھی کمی ہے تو شعر سنتے ہی فوراً اس کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔
شعر کا سب کی سمجھ میں آنا ویسے بھی ضروری نہیں۔
شاعری کا فنونِ لطیفہ میں سب سے اونچا مقام ہے ۔
اور ، ہر شخص کو فنونِ لطیفہ سے دلچسپی نہیں ہوتی ‫!!

٭٭
شاعری کی کتاب پہلے صفحے سے آخری صفحے تک پڑھ ڈالیں ، وہ ختم ہو جائے گی۔
لیکن اس کے معنی و مفہوم ختم نہیں ہوتے۔
ان کی شعریت بعد میں بھی دل کی تہہ میں اترتی رہتی ہے۔
ایک معنی خیز شعر کی سرگوشی بھی فرصت کے وقت گدگداتی ہے۔

---
( اختر الایمان کا ایک خیال افروز فلسفہ )

2007/03/10

مجھے ناپسند ہے ۔۔۔

السلام علیکم

ہمارے بہت ہی محترم افتخار اجمل صاحب نے راقم کو یہاں ٹیگ کیا ہے کہ ۔۔۔ میں اپنے کوئی دس ناپسندیدہ عوامل کا اظہار کروں ۔
ہر چند کہ اس قسم کے خیالات کا اپنے اس ادبی بلاگ پر اظہار کو میں مناسب خیال نہیں کرتا ۔۔۔ پھر بھی اجمل صاحب میرے لیے بہت محترم شخصیت ہیں اور میں ان کو انکار کرنے کی جراءت غالباََ نہیں کر سکتا ۔

سب سے پہلے تو عرض ہے کہ میں کسی چیز یا عمل کو ناپسند کرتا ہوں تو مجھے اس کے لیے لفظ ’نفرت‘ استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ ہوگی ۔۔۔ نفرت ذرا سخت سا لفظ ہے اور اتنی سختی میرے مزاج میں غالباََ شامل نہیں ۔
بہرحال ۔۔۔ ذیل میں حسبِ حکم چند عوامل کا ذکر رہا ہوں ۔۔۔ لیکن یہ دعویٰ مجھے کبھی نہیں رہا کہ درج ذیل چیزوں / اعمال سے مجھے ہمیشہ سے ناپسندیدگی رہی ہے اور تاعمر رہے گی ۔۔۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ آدمی کی سوچ وقت کے ساتھ بدلتی بھی ہے (دین و ایمان کے نظریے کے سوا)۔

‫1۔ چِلا کر بات کرنا
‫2۔ جب میں لکھنے بیٹھوں تو کسی کا قریب آکر اسے پڑھنا ، چاہے وہ میرے ماں باپ ہوں یا شریکِ حیات یا دوست احباب
‫3۔ غیر ضروری کھوج کرید
‫4۔ میری کتابوں کو پڑھنے کے لیے مانگ لے جانا اور ہفتوں مہینوں اس کو واپس نہ کرنا
‫5۔ نمازِ جمعہ میں ، خطبے کے دوران ، مسجد میں دیر سے آنے والے مصلیوں کا گردنیں پھلانگ کر آگے کی صفوں میں بیٹھنے کی کوشش کرنا
‫6۔ ہر قسم کی ’دینی بدعت‘ سے ’سخت نفرت‘ جس کا ثبوت خیرالقرون سے نہ ملے
‫7۔ قرآن و حدیث سے راست اکتساب کے بجائے عامۃ المسلمین کا ، صرف اور صرف اپنے اپنے مذہبی پیشوائیان کی کتب سے دین کو سمجھنے کی کوشش کرنا
‫8۔ خواتین کی وہ مخصوص عادت جس کے تحت ( ان کی بات نہ مانی جائے تو ) وہ بات چیت بند کر دیتی ہیں
‫9۔ دوستوں کا بلا کسی سبب کے لاتعلقی کا کبھی کبھار مظاہرہ

۔۔۔۔
اس وقت تو یہی 9 باتیں ذہن میں آئی ہیں ۔

2007/03/04

بغاوت

مجھے وہ بغاوت پسند ہے جس پر کسی تخریب کے بجائے تعمیر کا اطلاق ہوتا ہے اور ۔۔۔
جو عملی طور پر عام خوش حالی پھیلا سکے۔
اس سلسلے میں '' کمیونزم '' کے گمراہ کن پروپگنڈے سے مجھے شدید نفرت ہے ‫!
ناممکن العمل اصولوں کی تبلیغ محض مفاد پرستی ہے۔ ایک ایسا فریب ہے جسے روٹی اور کپڑے کے تصور سے خوبصورت بنا دیا گیا ہے۔
ہمارا دین اسلام ۔۔۔ جو کہ دنیا کا عظیم نظامِ عمل ہے ، اس میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جن کی صحیح تبلیغ سے معاشرے میں نیا پن پیدا ہو سکتا ہے۔
تورگنیف ، ٹالسٹائے اور کارل مارکس ۔۔۔ وغیرہ کی تصانیف پڑھنے کے بجائے اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں۔ پھر آپ کو ایسی ذہنی تشفی محسوس ہوگی جیسے زندگی روحانی خوشیوں کی گھنی چھاؤں میں آگئی ہو۔
لیکن ۔۔۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض مفاد پرست مولویوں کے ایک طبقے نے ترقی کی راہوں میں جو سنگلاخ چٹانیں پیدا کر رکھی ہیں ، کیا انہیں عبور کیا جا سکتا ہے ؟
یقیناََ ‫!!
کیوں کہ اس طبقہ کا فرد بھی پہلے انسان ہے اور پھر مذہبی قائد۔ چنانچہ ہر ایسے انسان کو اپنے راستے سے ہٹا دیں جس کی غلط قیادت سے دین و دنیا کے حسن پر ناجائز اقتدار کا گرہن لگ رہا ہو۔
لیکن ۔۔۔۔
پہلے بے معنی عقیدے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کہ جن میں زندگی کی صبحیں کھو جاتی ہیں۔ اور ایسی تقریروں اور تحریروں سے گریز کیا جائے ۔۔۔ کہ جیسے ۔۔۔
جیسے ستاروں کی روشنیوں سے مفلسوں کی جھونپڑیاں منور کی جائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ محض لفاظی ہے ، ناممکن العمل بات ہے۔
ایسی لفاظی کے بجائے ۔۔۔
سرمایہ داروں کو تلقین کرو کہ وہ مزدور کی محنت کا صحیح معاوضہ ادا کریں۔
مزاروں کی پرستش کرنے والے ضعیف الاعتقاد لوگوں کو سمجھاؤ کہ مزاروں کی خوبصورت مٹی پر خواہ مخواہ چادریں نہ چڑھائیں بلکہ وہ چادریں بھوکے ننگے لوگوں کو جسم ڈھانپنے کے لئے دے دیں۔
عالیشان ہوٹلوں میں ڈنر کھانے والے رئیسوں کو سمجھانا چاہئے کہ اگر وہ مفلس بھائیوں کی مدد کرنے سے مجبور ہیں تو اپنا بچا ہوا ڈنر کوڑے کرکٹ کے انبار میں پھینکنے کے بجائے بھوکے لوگوں کے حوالے کردیں جو صرف ایک نوالے کے لیے ترستے ہیں ۔

( ایک نامعلوم اردو ناول سے اقتباس )