2007/05/21

چور ۔۔۔ چور ۔۔۔ چور ‫!

ایک شخص حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا ‫:
‫’میرے پڑوس میں کوئی چور ہے جو آئے دن میری بطخیں چرا لیتا ہے‘۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسی وقت اعلان کروایا کہ سب لوگ عبادت کے لیے میدان میں جمع ہو جائیں۔
سب لوگ حاضر ہوئے تو آپ نے خطبہ دیا اور آخر میں فرمایا ‫:
‫‫’۔۔۔ تم لوگوں میں ایک ایسا شخص بھی ہے جو اپنے پڑوسی کی بطخیں چوری کرتا ہے اور ایسی حالت میں عبادت کرنے آتا ہے کہ اس کے سر پر بطخ کا پَر ہوتا ہے‘۔
یہ سن کر اسی وقت ایک شخص نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس شخص کو گرفتار کر لیا جائے ، یہی چور ہے ‫!

پسِ تحریر ‫:
ایک ملک کے اسمبلی اجلاس میں اسپیکر نے تقریر کے اختتام پر فرمایا کہ ۔۔۔
‫‫’کیا بات ہے کہ ہمارے کچھ معزز ممبران ایسی جگہ سے اٹھ کر یہاں چلے آتے ہیں کہ ان کے شرٹ کے کالر پر نسوانی بال پڑے نظر آتے ہیں‘۔
یہ سنتے ہی تقریباً تمام ’معزز ممبران‘ کے ہاتھ فوری طور پر اپنے شرٹ کے کالر کی جانب اٹھ گئے ‫!!

2007/05/20

مسائل ۔۔۔؟‫!

مطالعے کے دوران کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی ایک ہی موضوع یا باہم ملتے جلتے موضوع پر بظاہر مختلف دو یا دو سے زائد تحریریں سامنے آتی ہیں تو ذہن میں خیالات گڈمڈ سے ہو جاتے ہیں۔
بات یہ نہیں ہوتی کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔۔۔ ؟
بلکہ ۔۔۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ دو مختلف لکھنے والوں کی سوچ بھی مختلف ہوتی ہے ، اور یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ایک کی سوچ صحیح ہو تو دوسرے کی سوچ لازماً غلط ‫!
بہرحال ۔۔۔ ’مسائل‘ کے موضوع پر درج ذیل دو تحریریں ملاحظہ فرمائیں ۔
پہلی تحریر ایک مغربی مفکر کی ہے تو دوسری ایک مشرقی مفکرِ دین کی ‫!

<<<
مسائل ہی زندگی کی علامت ہیں۔
اگر ہمیں ایک بستر پر لٹا دیا جائے اور طویل عرصے
تک نہ اٹھنے کا حکم دیا جائے تو کون ہے جو اس ہدایت پر عمل کرے گا؟
مسائل زندگی
کو یکسانیت سے بچاتے ہیں ، کھوج پر اکساتے ہیں ۔۔۔
اور کھوج علم ہے ، علم وہ
راستہ ہے جو عرش سے وابستہ ہے۔
جو لوگ مسائل سے گھبرا کر خود کو ختم کر لیتے
ہیں وہ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی توہین کرتے ہیں۔


<<<
انسان ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے ۔۔۔
ایک طرف مسائل ہوتے ہیں اور دوسری
طرف مواقع ۔
یہ قدرت کا اٹل اصول ہے اور دنیا میں کوئی دوسرا قانون ہو ہی نہیں
سکتا ‫!
ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ مسائل کو نظرانداز کیا جائے اور مواقع
استعمال کیے جائیں ۔۔۔
کیونکہ مسائل کو نظرانداز کرنے سے ہمیں عمل کے لیے وقت
ملتا ہے اور مسائل سے الجھنے کا مطلب ہے : قیمتی وقت ضائع کرنا ‫!

2007/05/19

ناول ’شمیم‘ سے کچھ اقتباسات

منشی فیاض علی کا معروف و مقبول کلاسیکی ناول
شمیم

نصف صدی سے زائد عرصہ قبل تحریر کردہ اور کئی برس تک اردو کے ادبی افق پر چھائے مشہور ناول سے کچھ یادگار ، عمدہ اور پرفکر اقتباسات ۔۔۔۔۔

<<
انسان کے دماغ میں اچھے اور برے طرح طرح کے خیالات آتے رہتے ہیں، یہ قدرتی بات ہے۔
مگر انسان کی اصل انسانیت یہ ہے کہ وہ اپنے خیالوں کی تطہیر اور تہذیب کرتا رہے۔
اگر انسان اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو جوں کا توں ظاہر کرے گا تو انسانیت کے درجے سے گر جائے گا۔

<<
ماں ۔۔۔ اللہ کی رحمت کا سایہ ہے ‫!
ماں عجیب نعمت ہے ‫!!
سورج کی آنچ کے بغیر پھول نہیں کھلتے ، ماں کی شفقت کے بغیر اولاد میں سعادت کے آثار پیدا نہیں ہوتے۔

<<
مذہب ۔۔۔ بظاہر سخت معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس کی تہہ میں ہمہ گیر بھلائیاں چمک رہی ہیں۔
میرے مذہب میں شراب حرام ہے، میں اسے کسی طرح بھی حلال نہیں کر سکتا۔
اسلام آج بھی وہی ہے جو تیرہ سو سال پہلے تھا۔ ہنگامی ضروریات یا وقتی مصلحتیں اس میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتیں ، یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مکمل اور اٹل ہے۔

<<
گھبراؤ نہیں ، زندگی کے چیلنج کا مقابلہ کرو۔
شیر کو گولی لگتی ہے تو وہ ہمت نہیں ہارتا۔ ہاتھ پاؤں توڑ کر نہیں بیٹھتا ، وہ غراتا ہے ، اپنی طاقت سمیٹتا ہے ، گردش میں آتا ہے اور پوری قوت سے جست لگا کر صیاد پر جھپٹ پڑتا ہے۔

<<
زندگی کا چیلنج قبول کرو، امید کے تنکے جمع کرو اور اپنا آشیانہ دوبارہ تعمیر کر لو۔
یاد رکھو ، مایوسی موت ہے ‫!
اور قرآن کریم کا اعلان ہے کہ کافروں کے سوا اللہ کی رحمت سے کوئی مایوس نہیں ہوتا۔

2007/05/18

بحث و مباحثہ

بحث و مباحثہ انسانی فطرت میں داخل ہے ۔
عموماً بحث میں ہارنا کوئی پسند نہیں کرتا۔ کبھی کبھی بحث میں تلخ کلامی کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔ اگر بحث خوشگوار ماحول میں ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن ہم اکثر اپنے حریف کو نیچا دکھانے کے لئے ہی بحث کرتے ہیں کیونکہ ہمارا مقصود دوسرے کو نیچا دکھانا ہو جاتا ہے ۔ ایسے بحث و مباحثہ سے بچنا چاہئیے۔ کبھی کبھی مذاق میں بھی ہم ایک دوسرے کا دل دکھا دیتے ہیں ۔ اس کی شخصیت کے ایسے کمزور پہلوؤں کو پیش کرتے ہیں ، جس سے اسے تکلیف پہنچے۔ کیا یہ مناسب بات ہے؟
خوش طبعی اور مزاح بری بات نہیں ہے اگر اس میں مقابل کے دل دکھانے کا جذبہ نہ ہو۔ دوسروں سے تعلقات رکھنے میں بڑی ہوش مندی کی ضرورت ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے ‫:
اپنے بھائی سے مناظرہ نہ کر اور نہ اس سے مذاق کر اور نہ ہی اس سے وعدہ کر کے خلاف ورزی کر ۔

سوچئے ۔۔۔ کیا یہ سماجی زندگی گزارنے کے لئے رہنما اصول نہیں ہیں؟
ہم ان پر عمل کیوں نہیں کرتے؟؟