2010/12/25

کیا انسانی عقل کو لامحدود برتری حاصل ہے؟

کیا قرآن نے انسانی عقل کو لامحدود برتری عطا کی ہے؟
یا پھر یہی سوال کچھ یوں دہرایا جا سکتا ہے کہ :
کیا اللہ تعالیٰ نے انسانی عقل کو زندگی کے ہر معاملے میں فیصلہ کن برتری عطا کی ہے؟

اگر کسی نے قرآن کا "سنجیدگی" سے مطالعہ کیا اور آیاتِ ربانی پر غور و خوص کیا ہے تو اس سوال کا جواب وہ یقیناً نفی میں دے گا۔

ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ہیں جو دین کے معاملات میں عقل کو استعمال کرنے پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں اورعلمائے دین کوعقل نہ استعمال کرنے کا طعنہ دیتے ہیں۔ بلکہ کچھ تو آگے بڑھ کر یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ : یہ علماء چونکہ عقل استعمال نہیں کرتے اس لئے اہل علم میں شمار کرنے کے لائق بھی نہیں ہیں۔
ثبوت کے طورپر غلام احمد پرویز صاحب کا یہ فتویٰ ملاحظہ فرمایئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ :
بحوالہ : قرآنی فیصلے ص:506
کسی چیز کے حفظ کرنے میں عقل و فکر کو کچھ واسطہ نہیں ہوتا اس لئے حفظ کرنے کوعلم نہیں کہا جا سکتا، ہمارے علماء کرام کی بعینہ یہی حالت ہے کہ انھوں نے قدیم زمانے کی کتابوں کواس طرح حفظ کیا ہوتا ہے کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ فلاں مسئلہ کے متعلق فلاں کتاب میں کیا لکھا ہے، فلاں امام نے کیا کہا ہے ، فلاں مفسر کا کیا قول ہے ، فلاں محدث کا کیا ارشاد ہے اور جو کچھ انہیں ان کتابوں میں لکھا ملتا ہے وہ اسے حرفاً حرفاً نقل کر دیتے ہیں اس میں اپنی عقل و فکر کو قطعاً دخل نہیں دینے دیتے اس لئے ہم انہیں علمائے دین کہنے کے بجائے Catalogur یعنی حوالہ جات کی فہرست کہتے ہیں اورعلامہ اقبال کے بقول :
' فقیہ شہر قارون ہے لغت ہائے حجازی کا '
قرآن نے اس کو 'حمل اسفار' یعنی کتابیں اٹھائے پھرنے سے تعبیر کیا ہے یہ اپنے محدود دائرے میں معلومات کے حافظ ہوتے ہیں عالم نہیں ہوتے !

عقل پر زور دینے والے "صاحبانِ عقل" دینی معاملات میں عقل کے استعمال کے لئے دلیل کے طور پر قرآن کی متعدد آیات کو پیش کرتے ہیں جس کے باعث ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو عقلمند کہلوائے جانے کا خواہش مند ہوتا ہے اس خوبصورت جال میں با آسانی پھنس جاتا ہے۔

قرآن نے عقل کا استعمال کس ضمن میں کرنے کا حکم دیا ہے؟
اور کہاں ہرمسلمان عقل کے بجائے اﷲ اور اس کے رسول کے حکم کا پابند ہے؟

محترم عطاءاللہ ڈیروی صاحب نے اپنے ایک مفید مضمون میں جن آیات کا حوالہ دیا ہے ، شکریے کے ساتھ یہاں پیش خدمت ہے۔

عقل کا استعمال کرنے کی دعوت قرآن میں سب سے زیادہ ان مقامات پر ہے جہاں اﷲ تبارک و تعالیٰ کائنات میں پھیلی ہوئی بے شمار نشانیوں کے ذریعہ انسان کی توجہ توحید باری تعالیٰ کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہے مثلاً سورۃ شعراء میں ارشاد ربانی ہے کہ :
قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
اﷲ مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے ، کیا تم عقل نہیں رکھتے۔
( سورة الشعرآء : 26 ، آیت : 28 )
یہاں اﷲ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کو اپنی وحدانیت پر دلیل بنایا کہ جب ساری کائنات کا پالنے والا اﷲ ہے تو پھر جو لوگ عبادت میں اﷲ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کرتے ہیں وہ سراسر عقل کے خلاف کام کرتے ہیں

اور سورۃ بقرۃ میں اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ :
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخِّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
بے شک آسمانوں اورزمین کی تخلیق میں، رات اور دن کے فرق میں، کشتی جو سمندر میں لوگوں کے نفع کے واسطے چلتی ہے،اﷲ تعالیٰ کا آسمان سے پانی نازل کرنا جو مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے ،ہر قسم کے جانوروں کا زمین میں پھیلا دینا، ہواؤں کا چلانا اور بادلوں کا آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دینا ، یہ سب نشانیان ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 164 )
یہاں کائنات کے نظام کا محکم ہونا اﷲ تعالیٰ کی ربوبیت و وحدانیت پر بطور دلیل لایا گیا ہے تاکہ معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد بھی ایک اور اکیلا رب اور معبود صرف اﷲ تعالیٰ کو تسلیم کر سکیں، اسی طرح اوربھی بہت سی آیات ہیں۔

اس کے علاوہ عقل استعمال کرنے کا حکم گذشتہ اقوام کے حالات و واقعات سے سبق حاصل کرنے کے لئے بھی دیا گیا ہے مثلاً
سورۃ یوسف میں ارشاد ربانی ہے کہ :
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى أَفَلَمْ يَسِيرُواْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ اتَّقَواْ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم )ہم نے آپ سے پہلے بھی جونبی بھیجے وہ سب مرد تھے جن پرہم نے ان کی بستی والوں کے درمیان میں ہی وحی کی تھی،کیایہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ ان پچھلوں کاانجام اپنی آنکھوںسے دیکھیں اور آخرت کاگھربہترہے ان لوگوں کےلئے جو تقویٰ اختیارکرتے ہیں،کیا تم لوگ عقل نہیں رکھتے
( سورة يوسف : 12 ، آیت : 109 )
یہاں ان لوگوں کوعقل کااستعمال کرنے کاحکم دیاگیاجو گذشتہ انبیاء کرام کی امتوں کاحشر دیکھ کربھی انجان بنے ہوئے تھے

اسی طرح عقل کااستعمال کرنے کا مشورہ قرآن نے ان لوگوں کو بھی دیا ہے ہے جواﷲ تعالیٰ کے احکامات اور بنیادی اخلاقیات کی پامالی پرکمربستہ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ برائی کا انجام برا نہیں ہوتا
مثلاً سورۃ الانعام میں اﷲ تعالیٰ نے ارشادفرمایا کہ :
قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلاَّ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ دیجئے آؤمیںبتاؤں کہ تمہارے رب نے تم پر کیاحرام کیاہے ،یہ کہ اﷲ کے ساتھ کسی کوبھی شریک کرنا،والدین کے ساتھ احسان کرتے رہو،اولاد کومفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اورتمہیں بھی،فحش کے قریب بھی مت جاؤ خواہ وہ کھلاہو یا چھپاہواورکسی ایسی جان کو ناحق قتل نہ کرو جسے اﷲنے حرام کیاہویہ اﷲ تعالیٰ کی جانب سے تمہیں وصیت ہے شاید کہ تم عقل سے کام لو
( سورة الانعام : 6 ، آیت : 151 )
یہاں تمام ایسی بنیادی اخلاقیات کاحکم دیا جا رہا ہے جو اس قبل دیگر تمام شریعتوں او ر مذاہب میں بھی موجود رہی تھیں اوران احکامات سے اعراض اورخلاف ورزی ہمیشہ سے فساد فی الارض کاباعث رہی تھی اس لئے ان احکامات کی اہمیت و افادیت کوسمجھنے کی غرض سے یہاں عقل و فہم انسانی کودعوت دی جارہی ہےتاکہ مسلمان ان احکامات کی پابندی کواپنے اوپرکوئی بوجھ نہ سمجھیں

اسی طرح بنیادی اخلاقیات کے خلاف ایک چیزقول و فعل کا تضاد بھی ہے ، اس کے متعلق قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ :
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنْـتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
کیاتم دوسروں کانیکی کاحکم دیتے ہواورخو د اپنے آپ کوبھول جاتے ہوحالانکہ تم تو کتاب بھی پڑھتے ہو پس کیا تم عقل نہیں رکھتے
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 44 )
یعنی کسی غلط عمل کی کوئی تاویل یا توجیح کرکے انسان اپنے آپ کودھوکا نہ دے بلکہ عقل کے تقاضے کوسامنے رکھتے ہوئے جس نیکی کاحکم دوسروں کو دے رہا ہے خود بھی اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے

اسی طرح ہر وہ بات جو خلاف واقعہ اور زمان ومکان کے اعتبار سے محال ہو اس پر اصرار کرنے والوں کو بھی قرآن نے عقل کے استعمال کا مشورہ دیا ہے
مثلاًسورۃ آل عمرآن میں ارشاد ہوا کہ:
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاةُ وَالْإِنجِيلُ إِلاَّ مِن بَعْدِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ
اے اہل کتاب ابراھیم علیہ السلام کے(مذہب کے) بارے میں تم کیوں جھگڑتے ہوحالانکہ توریت اورانجیل توان کے بعد نازل ہوئیں ہیں کیاتم عقل نہیں رکھتے
( سورة آل عمران : 3 ، آیت : 65 )
یہاں اﷲ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کے اس تنازع کے تذکرہ کر رہا ہے جس میں دونوں فریق یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ابراھیم علیہ السلام ان کے مذہب پر تھے حالانکہ یہودیت اورعیسائیت جن آسمانی کتابوں کے بعد قائم ہوئی وہ ابراھیم علیہ السلام کے بعد ہیں اسلئے ایسی بات محض بے عقلی کے سوا کچھ نہیں
اس لئے قرآن اسکی مذمت کر رہا ہے

یعنی بالا تمام آیاتِ ربانی سے ظاہر ہوا کہ ۔۔۔۔
عقل کو استعمال کرنے کی دعوت ۔۔۔۔
  • قرآن کی تشریح
  • یا احکامات
  • یا حدود اﷲ سے متعلق آیات
کے ضمن میں پورے قرآن میں کہیں بھی نہیں ہے !!
بلکہ اسکی تشریح اﷲ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال ، افعال و اعمال کے ذریعہ خود فرمائی ہے
جس کی دلیل قرآن کی یہ آیت ہے۔ فرمایا:
فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ
جب ہم پڑھائیں تو ہمارے پڑھانےکے بعد پڑھو ، پھراسکی تشریح بھی ہمارے ذمہ ہے
( سورة القيامة : 75 ، آیت : 18-19 )

اس لئے وہ لوگ جو قرآن کی تشریح عقل ، فلسفہ اور منطق کے ذریعہ کرنا چاہتے ہیں وہ بلامبالغہ ایک بڑی غلط راہ پر ہیں۔

البتہ سورۃ بقرۃ کی ایک آیت ایسی ہے جہاں کسی کو اس قسم کا اشکال ہو سکتا ہے اس آیت کے الفاظ یہ ہیں:
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَآ أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبيِّنُ اللّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ
یہ لو گ جوئے اورشراب کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دیجئے یہ بڑے گناہ ہیں اوراس میں لوگوں کوکچھ منفعت بھی ہے لیکن ان کاگناہ انکے نفع سے کہیں بڑھ کر ہے اوروہ لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ (اﷲ کی راہ میں ) کیاخرچ کریں، کہہ دیجئے کہ وہ سب جوتمہاری ضرورت سے زائد ہے ،اس طرح ہم اپنی آیات کوکھول کربیان کردیتے ہیں تاکہ یہ لوگ غور وفکر کریں
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 219 )
یہاں اس آیت میں اﷲ تبارک وتعالیٰ نے شراب اور جوئے کے ممانعت کی حکمت بیان کی ہے اوراس کے بالمقابل صدقہ کاحکم دیا ہے تاکہ لوگ ان معاملات میں تھوڑے اورظاہر ی فائدے کونہ دیکھیں بلکہ اس کے گناہ اور نقصان کومدنظر رکھیں جو نفع کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اوراس کے بعد غور فکر کی دعوت اس لئے دی گئی ہے تاکہ لوگ دین کے باقی احکامات پر بھی یہ یقین رکھتے ہوئے عمل کریں کہ ان سب احکامات کی کوئی نہ کوئی وجہ اورحکمت ضرور ہے اگرچہ ہم جانتے نہ ہوں
اور اس جانب اشارہ بھی ہے کہ جولوگ ان احکامات پرغور فکرکریں گے ان کواس میں سے بعض احکامات کی حکمت معلوم بھی ہوجائے گی لیکن اصل بات یہ ہے کہ ان احکامات پرعمل کرناسب کے لئے فرض ہے مگر انکی حکمت کو جاننا ہر ایک پر فرض نہیں کیونکہ یہاں لفظ "لعلکم" استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں شاید کہ تم ، امید ہے کہ تم یا توقع ہے کہ تم غورو فکرکرو گے ۔

لیکن غلام احمد پرویز صاحب نے صرف "عقل" کوعلم قرار دیتے ہوئے ان تمام علماء کرام کو جاہل اورکتابیں ڈھونے والا گدھا قرار دیا ہے جو تمام کتابوں کو بالائے طاق رکھ کر صرف عقل کی مدد سے قرآن کی تشریح نہیں کرتے۔
اور اسی طرزِ فکر کا مظاہرہ اردو کی انٹرنیٹ کمیونیٹی میں جا بجا دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح اپنے ہی دینِ حنیف کے علماء کرام کو مولوی / ملا کہہ کر اپنی عقل کو برتر اور علماء کو پستی کا شکار بتایا جا رہا ہے !!

جبکہ لفظ "علم" کے معنی ہی "جاننا" ہیں
اورعلامہ کا مطلب ہے : بہت زیادہ جاننے والا
یعنی عالم دین اسی شخص کو کہا جائے گا جو قرآن کی کسی آیت یا کسی حدیث کے بارے میں گذشتہ اہل علم کے اقوال کو جانتا ہو کیونکہ صراط مستقیم مشروط ہے ان لوگوں کے اقوال ، افعال و اعمال کے استفادہ سے جن پراﷲ تعالیٰ کا انعام ہوا اور جو قرآن کریم کے حوالے سے انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین ہیں۔

اگر بقول پرویز صاحب ہدایت اورعلمیت مشروط ہے عقل سے تو پھر قرآن میں فلسفی ، مفکر ، مدبراورعلم منطق کے ماہر افراد کے راستے کو ہی "صراط مستقیم" ہونا چاہیے تھا جبکہ قرآن کے مطابق ایسا ہے نہیں !!

2010/12/22

خاکی ہے مگر "خاک" سے آزاد ہے مومن

پہلے ۔۔۔۔ ایک کتاب سے ایک دلچسپ اقتباس ملاحظہ فرمائیے ۔۔۔۔
یہ 1918ء کا ذکر ہے
میں قبلہ والد صاحب کے ہمراہ امرتسر گیا ۔ میں ایک چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا ، جہاں نہ بلند عمارات ، نہ مصفا سڑکیں ، نہ کاریں ، نہ بجلی کے قمقمے اور نہ اس وضع کی دکانیں ۔ دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ لاکھوں کے سامان سے سجی ہوئی دکانیں۔ اور بورڈ پر کہیں رام بھیجا سنت رام لکھا ہے ، کہیں دُنی چند اگروال، کہیں سنت سنگھ سبل اور کہیں شادی لال فقیر چند۔ ہال بازار کے اس سرے سے اس سرے تک کسی مسلمان کی کوئی دکان نظر نہ آئی۔ ہاں مسلمان ضرور نظر آئے۔ کوئی بوجھ اٹھا رہا تھا کوئی گدھے لاد رہا تھا۔کوئی مالگدام سے بیل گاڑی پہ ہندو کا سامان لاد رہا تھا ۔ کوئی کسی ٹال پر لکڑیاں چیر رہا تھا اور کوئی بھیک مانگ رہا تھا۔ غیر مسلم کاروں اور فٹنوں پر جا رہے تھے اور مسلمان اڑھائی من بوجھ کے نیچے دبا ہوا مشکل سے قدم اٹھا رہا تھا۔ ہندوؤں کے چہروں پر رونق بشاشت اور چمک تھی اور مسلمان کا چہرہ فاقہ، مشقت ، فکر اور جھریوں کی وجہ سے افسردہ و مسخ شدہ۔
میں نے والد صاحب سے پوچھا :
"کیا مسلمان ہر جگہ اسی طرح سے زندگی بسر کر رہے ہیں"
والد صاحب : ہاں
میں: اللہ نے مسلمان کو بھی ہندوکی طرح دو ہاتھ دو پاؤں اور ایک سر عطا کیا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہندو تو زندگی کے مزے لوٹ رہا ہے اور مسلمان ہر جگہ حیوان سے بدتر زندگی بسر کر رہا ہے؟
والد صاحب : یہ دنیا مردار سے زیادہ نجس ہے اور اس کے متلاشی کتوں سے زیادہ ناپاک۔ اللہ نے یہ مردار ہندوؤں کے حوالے کر دیا ہے اور جنت ہمیں دے دی ہے۔ کہو کون فائدے میں رہا ؟ ہم یا وہ ۔
میں: اگر دنیا واقعی مردار ہے تو آپ تجارت کیوں کرتے ہیں اور مال تجارت خریدنے کے لیے امرت سر تک کیوں آئے ہیں ؟ ایک طرف دنیوی سازوسامان خرید کر نفع کمانا اور دوسری طرف اسے مردار قرار دینا ، عجیب قسم کی منطق ہے ۔
والد صاحب: بیٹا ! بزرگوں سے بحث کرنا سعادت مندی نہیں۔ جو کچھ میں نے تمھیں بتایا ہے وہ ایک حدیث کا ترجمہ ہے ۔ رسول اللہ نے فرمایا تھا :
"الدنیا جیفۃ و طلابھا کلاب" (یہ دنیا ایک مردار ہے اور اس کے متلاشی کتے)۔

حدیث کا نام سن کر میں ڈر گیا اور بحث بند کر دی۔ سفر سے واپس آ کر میں نے گاؤں کے مُلا سے اپنے شبہات کا اظہار کیا۔ اس نے بھی وہی جواب دیا۔ میرے دل میں اس معمے کو حل کرنے کی تڑپ پیدا ہوئی۔ لیکن میرے قلب و نظر پر تقلید کے پہرے بیٹھے ہوئے تھے۔ علم کم تھا اور فہم محدود ، اسلیے معاملہ زیادہ الجھتا گیا۔

یہ اقتباس ہے جناب غلام جیلانی برق کی کتاب "دو اسلام" کا۔ (اقتباس کی کمپوزنگ کیلیے اردو محفل کے رکن طالوت کا شکریہ)۔

کتاب "دو اسلام" کے متعلق میں نے اپنی پچھلی تحریر میں لکھا تھا کہ : یہ جناب برق مرحوم کے اُس دور کی کتاب تھی جس دور میں وہ "حدیث" سے برگشتہ تھے۔ بعد میں وہ تائب ہوئے ، اِس کتاب سے براءت کا اظہار کیا اور ناشرین سے گذارش کی کہ دوبارہ اس کتاب کو نہ شائع کریں۔ پھر انہوں نے "تاریخِ حدیث" نامی انتہائی اہم کتاب بھی تحریر فرمائی۔ اللہ انہیں جزائے خیر سے نوازے۔

"دو اسلام" کا بہترین جواب مولانا مسعود احمد بی۔ایس۔سی نے اپنی ایک کتاب بعنوان "تفہیم اسلام بجواب دو اسلام" کے ذریعے دیا تھا۔ الحمداللہ یہ کتاب بھی اب پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں شائقین کے مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔ اس تحریر کے اختتام پر کتاب کا ڈاؤن لوڈ لنک فراہم کیا جا رہا ہے۔

"دو اسلام" کے بالا اقتباس کا مفصل جواب "تفہیم اسلام" کے صفحہ:20 تا 35 پھیلا ہوا ہے۔ اسی جواب کو یہاں مختصراً لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

اول تو یہ کہ جس قول کو حدیث کے نام سے ذکر کیا گیا ہے ، یعنی :
الدنيا جيفة وطلابها كلاب (یہ دنیا مردار ہے اور اسکے طلبگار کتے ہیں)
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت قول نہیں ہے۔ امام صغانی (متوفی : 1252ء) کی مشہور کتاب "الموضوعات" کے صفحہ:6 پر اس روایت کو تابعی "شهر بن حوشب" سے منسوب قول کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

دنیاوی عیش و عشرت اگر کسی کے پاس زیادہ ہو اور کسی کے پاس کم تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ مالدار سے خوش اور فقراء سے ناراض ہے۔ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و قارون ، حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے صحابہ اور خود نبی کریم (علیہ الصلوٰۃ والسلام) اور آپ کے اصحابِ جلیل کے جو واقعات بیان ہوئے ہیں ، اس کے مطابق تو ہر رسول کے زمانے میں کافر خوش حال تھے۔

دنیا میں دولت و آسائشوں کی فراوانی سے دھوکہ اسلیے نہیں کھانا چاہئے کہ یہ ایک بےحقیقت شے ہے جبکہ "حق" ایک علیحدہ چیز ہے جس کا معیار دنیا کی زیب و زینت نہیں ہے۔ جیسا کہ سورہ طٰہ (20)، آیت:131 میں ارشاد ہوا ہے ۔۔۔۔
کافروں کو جو مال ہم نے دے رکھا ہے اس کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھو ، یہ محض دنیاوی جاہ و حشمت ہے ، تاکہ ہم اس میں ان کی آزمائش کریں اور تمہارے رب کا رزق بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔

اگر دنیا اچھی چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کی طمع سے ہرگز نہ روکتا۔ حتیٰ کہ ازواج مطہرات (رضی اللہ عنھن) سے فرماتا ہے کہ دنیا کی چاہ و طلب ناپسندیدہ شئے ہے۔ (ملاحظہ ہو سورہ الاحزاب:29)

بےشک اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دنیاوی نعمتوں کا احسان جتایا ہے اور مال و دولت کو اپنا فضل قرار دیا ہے۔ لیکن قرآن و حدیث میں جہاں کہیں "دنیا" کا لفظ آیا ہے اس سے وہ دنیا مراد ہے جس میں پھنس کر انسان اللہ کی یاد سے غافل ہو جائے۔ ایک مسلمان کے مقابل کافر کو نہ حساب کتاب کا خوف ہوتا ہے ، نہ حلال حرام کی تمیز اور نہ آخرت کی فکر۔ جیسا کہ سورہ الانعام (6) کی آیت:32 اور سورہ الحدید (57) کی آیت:20 میں بیان ہوا ہے۔ حتیٰ کہ ایسی دنیا کی طرف مائل ہونے والے کو سورہ الاعراف (7) ، آیت:176 میں "كمثل الكلب" (کتے کی مانند) قرار دیا گیا ہے۔

جبکہ مومن کی دنیا یہ ہے کہ ۔۔۔۔
یہ ایسے لوگ ہیں کہ تجارت اور خرید و فروخت ، ان کو اللہ کے ذکر اور نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی ، وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی۔
(سورہ النور:44 ، آیت:37)

یعنی عیش و آسائشوں کی فراوانی اور ان کے حصول میں انہماک ایک مومن کو نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتا ہے اور نہ ہی وہ اس کی حرص میں مبتلا ہوتا ہے۔ بلکہ ایک مومن دنیاوی ساز و سامان ، مال و اولاد ، کو آزمائش کی چیزیں سمجھتا ہے اور ان کو اس ہی طریقہ سے استعمال کرتا ہے جس طریقہ سے استعمال کا اللہ نے حکم دیا ہے۔

اسی طرح صحیح بخاری کی ایک طویل حدیث میں دونوں دنیاؤں کا فرق بتاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ پس اس مسلم کا مال کتنا اچھا ہے جو اپنے مال سے مسکین ، یتیم اور مسافر کو دیتا رہتا ہے اور بےشک جو شخص اس مال کو ناجائز طریقہ سے لے گا وہ اس شخص کی طرح ہے کہ کھائے اور سیر نہ ہو اور وہ مال اس پر قیامت کے دن گواہ ہوگا۔
صحیح بخاری ، کتاب الزکوٰۃ

حدیثِ بالا سے ثابت ہوا کہ "دنیا" سے مراد مسلم مومن کی دنیا نہیں کہ جس کو وہ حلال طریقہ سے حاصل کرتا ہے ، اس کا حریص نہیں ہوتا اور پھر اس کے خرچ کرنے میں بخل نہیں کرتا ۔۔۔۔ بلکہ "دنیا" سے مراد وہ دنیا ہے جس کو حرص و طمع کے ساتھ ، جائز و ناجائز ہر طریقہ سے حاصل کیا جائے اور اللہ کے راستے میں خرچ نہ کیا جائے۔ اور یہی وہ دنیا ہے جو مردار ہے اور اس کے طالب کتے ہیں۔


***
تفہیم اسلام - از : مسعود احمد بی ایس سی
صفحات : 579
پ۔ڈ۔ف فائل سائز : 58 ایم۔بی
ڈاؤن لوڈ لنک : Download-Tafheem-e-Islam

2010/12/20

نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنا ۔۔۔؟

ہمارے معاشرے میں بسا اوقات ایسا دیکھا گیا ہے کہ انجانے لوگ برسرعام ہمیں ٹوک دیتے ہیں۔ کبھی کہہ دیا کہ : مردِ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ پائینچے ٹخنوں سے اوپر ہوں۔ غیروں کے فیشن کا کیا ہے ہر پل تبدیل ہوتا رہتا۔ کبھی کسی خاتون کو اٹھا کر کہہ دیا کہ سر پر دوپٹہ ڈال لینے سے آپ کا کیا بگڑ جائے گا؟ کبھی کسی بچے کو ٹوک دیا کہ خراب زبان استعمال مت کیا کرو بیٹے ، کیا ماں باپ نے ایسا ہی سکھایا ہے تمہیں؟

جی ہاں ! یہ ہمارے مسلم معاشرہ کی خصوصیات ہیں !!
کبھی عقلی طور سے سوچا جائے تو گلوبل ولیج میں یہ کچھ عامیانہ سی حرکت نظر آتی ہے۔ اور اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ یہ ناصحانہ انداز صرف مسلمانوں میں ہی کیوں؟ جبکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ پہلے خود اپنے اعمال درست کئے جائیں پھر دوسروں کو نصیحت کی جائے جیسا کہ آیتِ ربانی ہے :
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلاَ تَعْقِلُون
کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو ، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
( البقرة:2 - آيت:44 )

مگر ۔۔۔۔۔۔
کیا یہ "شرط" ضروری ہے کہ : پہلے خود کی اصلاح کر لی جائے اس کے بعد دوسروں کی اصلاح کی طرف توجہ کی جائے؟
اگر دوسروں کی اصلاح کے لیے ایسی شرط کا پورا کرنا پہلے لازم قرار دے دیا جائے تو ۔۔۔۔۔ تو پھر ہوگا یہ کہ ہم کسی کو بھی "فریضۂ احتساب" ادا کرنے والا نہ پائیں گے اور اس طرح اسلام کا ایک عظیم فریضہ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" معطل ہو کر رہ جائے گا !!

علمائے امت نے اس بات کو نہایت واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔

وقال مالك عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن سمعت سعيد بن جُبير يقول: لو كان المرء لا يأمر بالمعروف ولا ينهى عن المنكر حتى لا يكون فيه شيء، ما أمر أحد بمعروف ولا نَهَى عن منكر. قال مالك: وصدق، من ذا الذي ليس فيه شيء!.
حضرت سعید بن جبیر (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں:
اگر کوئی شخص اس وقت تک نیکی کا حکم نہ دے ، اور برائی سے نہ روکے ، جب تک خود اس میں کوئی (برائی) نہ رہے ، تو (پھر تو) کوئی شخص نیکی کا حکم نہ دے سکے گا اور برائی سے نہ روک سکے گا۔
امام مالک (رحمة اللہ علیہ) قولِ بالا پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اور انہوں (سعید بن جبیر) نے سچ کہا ، وہ کون ہے جس میں کوئی چیز (خرابی) نہیں؟"
بحوالہ : تفسیر قرطبی ، آیت : البقرہ-44 // آن لائن ربط

وقال الحسن لمطرِّف بن عبد اللَّه: عِظ أصحابك؛ فقال إني أخاف أن أقول ما لا أفعل؛ قال: يرحمك الله! وأيّنا يفعل ما يقول! ويودّ الشيطان أنه قد ظَفِر بهذا، فلم يأمر أحد بمعروف ولم ينه عن منكر.
حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) نے مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) سے کہا:
اپنے ساتھیوں کو نصیحت کیجئے۔
مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) نے جواباً کہا :
میں ڈرتا ہوں کہ وہ بات کہہ نہ دوں جس کو میں خود نہیں کرتا۔
یہ سن کر حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) کہنے لگے :
اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ ہم میں کون ایسا ہے جو وہ (سب کچھ) کرتا ہے ، جو وہ کہتا ہے؟ شیطان اسی بات کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، (تاکہ) پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور نہ ہی برائی سے روکے۔
بحوالہ : تفسیر قرطبی ، آیت : البقرہ-44 // آن لائن ربط

امام طبری علیہ الرحمۃ اسی بات کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں :
واما من قال لا يأمر بالمعروف الا من ليست فيه وصمة فان أراد أنه الأولى فجيد والا فيستلزم سد باب الأمر إذا لم يكن هناك غيره
اور جس نے یہ کہا کہ :
"نیکی کا حکم وہی دے ، جس میں کوئی غلطی نہ ہو"
اگر کہنے والے کا مقصود یہ ہے کہ 'یہ بہترین صورت ہے' تو یہ عمدہ (بات) ہے۔
بصورت دیگر اس فریضہ کو ادا کرنے والے کسی دوسرے شخص کے موجود نہ ہونے کی صورت میں نیکی کے حکم دینے کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
بحوالہ : فتح الباری شرح بخاری ، باب الفتنة التي تموج كموج البحر // آن لائن ربط

امام ابوبکر الرازی الجصاص علیہ الرحمة فرماتے ہیں :
وجب أن لا يختلف في لزوم فرضه البر والفاجر لأن ترك الإنسان لبعض الفروض لا يسقط عنه فروضا غيره ألا ترى أن تركه للصلاة لا يسقط عنه فرض الصوم وسائر العبادات فكذلك من لم يفعل سائر المعروف ولم ينته عن سائر المناكير فإن فرض الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر غير ساقط عنه
(نیکی کا حکم دینے کے متعلق) لازم ہے کہ نیک اور فاسق پر اس کے واجب ہونے کے بارے میں کچھ فرق نہ ہو ، (بلکہ اس کا ادا کرنا دونوں پر واجب ہے) کیونکہ انسان کے بعض واجبات کے چھوڑنے سے دوسرے واجبات کا چھوڑنا لازم نہیں آتا !
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ نماز کا ترک کرنا ، انسان کے روزوں اور دوسری عبادات کے ترک کرنے کے لیے باعثِ جواز نہیں بن سکتا۔ اسی طرح جو شخص تمام نیکیاں بجا نہیں لا سکتا ، اور تمام برائیوں سے اجتناب نہیں کر سکتا ، اس پر سے بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا واجب ساقط نہیں ہوتا۔
بحوالہ : احکام القرآن ، امام ابی بکر الجصاص // آن لائن ربط

اور اسی بات کو امام نووی علیہ الرحمۃ ، ایک دوسرے انداز سے واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
قال العلماء: ولا يشترط في الاَمر والناهي أن يكون كامل الحال، ممتثلاً ما يأمر به، مجتنبا ما ينهى عنه، بل عليه الأمر وإن كان مخلاً بما يأمر به، والنهي وإن كان متلبسا بما ينهى عنه، فإنه يجب عليه شيئان: أن يأمر نفسه وينهاها، ويأمر غيره وينهاه. فإذا أخل بأحدهما كيف يباح له الإخلال بالاَخر؟
علمائے کرام نے کہا ہے کہ (نیکی کا) حکم دینے اور (برائی سے) روکنے والے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ خود درجۂ کمال کو پہنچا ہوا ہو۔ بلکہ اس پر (نیکی کا) حکم دینا واجب ہے، اگرچہ وہ اسے پوری طرح ادا کرنے والا نہ ہو۔ اسی طرح (برائی سے) روکنا اس پر فرض ہے اگرچہ اس کا دامن اس (برائی) سے آلودہ ہی کیوں نہ ہو۔
پس اس پر دو چیزیں واجب ہیں :
1۔ اپنے نفس کو (نیکی کا) حکم دے اور (برائی سے) روکے
2۔ دوسروں کو (نیکی کا) حکم دے اور (برائی سے) روکے
اور اگر اس نے ایک واجب میں کوتاہی کی ، تو اس کے لیے دوسرے واجب میں غفلت برتنا کیسے جائز ہو گیا؟
بحوالہ : عون المعبود شرح سنن أبي داود - كِتَاب الْمَلَاحِمِ // آن لائن ربط

بےشک یہ بات درست نہیں کہ خود سراسر بےعمل ہو کر دوسروں کو نصیحتیں کرتے جائیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کا فریضہ اسلیے چھوڑ دیا جائے کہ خود ہم "بےعمل" ہیں۔
سورہ البقرہ کی بالا آیت:44 کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :
وليس المراد ذمهم على أمرهم بالبر مع تركهم له
اس آیت سے مراد یہ نہیں کہ نیکی کا حکم دینے کے ساتھ نیکی ترک کرنے پر ان کی مذمت کی گئی ہے ، بلکہ نیکی کے چھوڑنے پر (ان کی مذمت کی گئی) ہے۔
بحوالہ : تفسیر ابن کثیر ، آیت : البقرہ-44 // آن لائن ربط

اسی طرح امام قرطبی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اعلم وفّقك الله تعالى أن التوبيخ في الآية بسبب ترك فعل البر لا بسبب الأمر بالبر
جان رکھو ! اللہ تعالیٰ تجھے توفیق دے کہ اس آیت میں توبیخ کا سبب نیکی کا نہ کرنا ہے ، نیکی کا حکم دینا باعثِ توبیخ نہیں۔
بحوالہ : تفسیر قرطبی ، آیت : البقرہ-44 // آن لائن ربط

کم سے کم ہمارا معاشرہ اس قدر تو زندہ ہے کہ لوگ بےعمل سہی مگر امر بالمعروف و نھی عن المنکر کا ہی کچھ خیال کر لیتے ہیں۔ اگر یہ بھی باقی نہ رہے تو پھر وہی ہوگا جس کی طرف حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ :
شیطان اسی بات کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، (تاکہ) پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور نہ ہی برائی سے روکے !!

2010/12/18

انکارِ حدیث سے تاریخِ حدیث تک ۔۔۔

۔۔۔ انسانی فکر ایک متحرک چیز ہے جو کسی ایک مقام پر مستقل قیام نہیں کرتی اور سدا خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتی ہے۔ جس دن فکرِ انسان کا یہ ارتقاء رک جائے گا علم کی تمام راہیں مسدود ہو جائیں گی۔
کمال صرف ربِّ ذو الجلال کا وصف ہے وہ جو بات کہتا ہے وہ از ابتدا تا انتہا ہر لحاظ سے کامل ہوتی ہے اور کسی تغیر کو قطعاً گوارا نہیں کرتی۔ لیکن انسان صداقت تک پہنچتے سو بار گرتا ہے۔ میں بھی بارہا گرا ، اور ہر بار لطفِ ایزدی نے میری دستگیری کی کہ اٹھا کر پھر ان راہوں پر ڈال دیا جو صحیح سمت کو جا رہی تھیں۔
والحمد للہ علیٰ ذلک

بالا اقتباس دراصل جناب غلام جیلانی برق کی کتاب "تاریخِ حدیث" کے مقدمہ (حرف اول) کی آخری سطریں ہیں۔

غلام جیلانی برق ۔۔۔۔۔
یہ وہ نام ہے جس نے "فتنہ انکارِ حدیث" کے فروغ کے حوالے سے خوب بدنامی سمیٹی تھی۔ اسی بدنامی کے حوالے سے آپ کی چند مشہور کتابوں میں سے ایک کتاب کا عنوان ہے : دو اسلام
اس عنوان کے سہارے جناب برق مرحوم نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ مسلم معاشرے میں "صرف قرآن" والا اسلام نہیں بلکہ خود ساختہ کتبِ روایات کے حوالے سے ایک دوسرا اسلام بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ دین کی بنیاد کو صرف "قرآن" ثابت کرنے کے زعم میں اس کتاب میں برق صاحب نے احادیث کا جو مذاق اڑایا تھا ۔۔۔۔ اللہ انہیں اس پر معاف فرمائے۔
اس کتاب کے جواب میں سینکڑوں کتب تحریر کی گئیں۔ جن میں سے مولانا سرفراز خان صفدر مرحوم کی کتاب "صرف ایک اسلام" بھی شامل ہے۔
راقم الحروف کی نظر میں "دو اسلام" کا سب سے بہترین جواب مولانا مسعود احمد بی۔ایس۔سی نے تحریر کیا تھا۔
مسعود احمد صاحب کی اس کتاب کا عنوان ہے : تفہیم اسلام بجواب دو اسلام
اس کتاب میں مسعود احمد صاحب نے "دو اسلام" کے ایک ایک پیراگراف کا علیحدہ علیحدہ جواب دیتے ہوئے گویا "ترکی بہ ترکی" والے محاورہ کی یاد دلائی تھی۔

اللہ کی قدرت دیکھئے۔ اور سچ کہا کسی نے کہ ایک مسلمان کو ہمیشہ صراطِ مستقیم کی چاہ اور طلب میں رہنا اور اس کی دعا کرتے رہنا چاہئے۔
اس کتاب (تفہیم اسلام بجواب دو اسلام) کو پڑھ کر غلام جیلانی برق صاحب نے تو اپنے موقف سے رجوع کر لیا اور "تاریخِ حدیث" نامی بہترین کتاب تحریر کر کے حدیث سے محبت کا اپنا حق ادا کر گئے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔
اور تفہیم اسلام کے مصنف ۔۔۔۔۔۔ ؟ آپ جناب نے ٹھوکر کھائی اور جماعت المسلمین نامی ایک نئے فرقے کی داغ بیل ڈالی اور ایک جم غفیر کو گمراہ کرنے کا سبب بنے۔

کتاب "دو اسلام" کا ایک اور جواب حافظ محمد گوندلوی نے بھی "دوامِ حدیث" نامی کتاب میں دیا ہے۔
ماہنامہ "ترجمان القرآن" (ستمبر-2010ء) کے شمارے میں اسی کتاب "دوام حدیث" کا تعارف کرواتے ہوئے جناب ارشاد الرحمٰن لکھتے ہیں :
دوامِ حدیث کی جلد دوم ان مباحث پر مشتمل ہے جو حدیث کے متعلق اسی نوعیت کے اُن اعتراضات کا جواب ہے جو ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے دو اسلام کے عنوان سے 1949ء میں شائع کیے تھے۔ ڈاکٹر برق کی اس کتاب کے متعدد علما نے جواب لکھے اور ہر مصنف نے اپنے انداز میں اس کا جواب فراہم کیا۔ حافظ محمد گوندلوی نے مقامِ حدیث کی طرح دو اسلام کا جواب بھی محدثانہ اسلوب میں مذکورہ تحریر کے ذیل میں ہی لکھ دیا تھا۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق تاریخِ حدیث لکھ کر دواسلام کے مشتملات سے دست بردار ہوگئے تھے لیکن افسوس ہے کہ بعض بددیانت ناشر اسے مسلسل شائع کر رہے ہیں اور بہت سے نوخیز ذہنوں کو پراگندہ کرنے کے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

اس تحریر کو لکھنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ "دو اسلام" کے مقابلے میں "تاریخِ حدیث" نامی کتاب کو فروغ دیا جائے اور قارئین کو اس کے مطالعے کی ترغیب دلائی جائے تاکہ انکارِ حدیث کی راہ پر انجانے میں چل نکلنے کے بجائے دین کے دوسرے بنیادی ستون "حدیث" سے ان کی محبت و عمل میں دو چند اضافہ ہو۔

اَپ ڈیٹ : update
19-ڈسمبر-2010ء

صاحبِ "تفہیم اسلام بجواب دو اسلام" کے نام اپنے ایک خط (16-مئی-1971ء) میں برق صاحب نے بذاتِ خود اعتراف کیا کہ :
1 : "دو اسلام" کی زبان غیر سنجیدہ ، غیر علمی اور سخت جانبدارانہ ہے !
2 : میرا یہ موقف کہ احادیث کی تدوین و تسوید اڑھائی سو برس بعد ہوئی تھی ، سر و پا غلط ہے۔ میں نے اس کی تلافی تو کر دی ہے کہ "تاریخ تدوین حدیث" لکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ حضور پرنور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حیاتِ مبارکہ ہی میں تقریباً 40 ہزار احادیث ضبط ہو چکی تھیں۔

صاحبِ "تفہیم اسلام بجواب دو اسلام" کے نام برق صاحب کے ایک اور خط (14-نومبر-1972ء) میں واضح ہدایت :
میں نے ناشرین "دو اسلام" کو تاکید کی ہے کہ وہ اس کا آئیندہ کوئی ایڈیشن شائع نہ کریں۔

یاد رہے کہ یہ اعترافات کتاب "تفہیم اسلام" کے تیسرے ایڈیشن (1987ء) کے آخری صفحات میں شائع کئے گئے ہیں۔ ان شاءاللہ اس کتاب کا ڈاؤن لوڈ لنک بھی جلد فراہم کیا جائے گا۔

***
تاریخِ حدیث - از : غلام جیلانی برق
صفحات : 227
پ۔ڈ۔ف فائل سائز : 3.5 ایم۔بی
ڈاؤن لوڈ لنک : Download-Tareekhe-Hadees

2010/12/13

ذوق والوں کے نام : اردو بلاگنگ کے پانچ (5) سال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ ، محترم قارئین !

اردو بلاگنگ کے منظرِ عام پر آج راقم کی اس پوسٹ کے ساتھ 5 سال مکمل ہو رہے ہیں۔
پانچ سال قبل آج ہی کے دن ، یعنی 13-ڈسمبر-2005ء کو جب میں نے بلاگ اسپاٹ پر اپنا بلاگ قائم کیا تھا تو آج کی بہ نسبت نہایت ہی کم بلاگز اردو بلاگنگ کے میدان میں موجود تھے ، خاص طور پر بلاگ اسپاٹ یعنی بلاگر ڈاٹ کام پر تو گنے چنے اردو بلاگ نظر آتے تھے۔

خود میں نے جب اپنا یہ بلاگ، بلاگ اسپاٹ پر قائم کیا تھا تو نہ اُس وقت مجھے بلاگنگ کی الف بے کا علم تھا، نہ بلاگ تھیمز کو سمجھنا آتا تھا اور نہ ہی اردو یونیکوڈ تحریر سے کوئی خاص شناسائی حاصل تھی۔ کسی جگہ جناب امانت علی گوہر کا آن لائن اردو پیڈ مل گیا تھا تو وہیں اردو یونیکوڈ میں لکھنے کی مشق ہو جایا کرتی تھی۔
ویسے اردو کی انٹرنیٹ کمیونیٹی میں فورمز کے حوالے سے غالباً 2003ء کے اوائل میں میرا داخلہ ہوا تھا۔ دو سال تک تصویری اردو اور رومن اردو کے فورمز میں سیکھنا سکھانا چلتا رہا پھر یونیکوڈ اردو کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے فورم اردو محفل سے آشنائی ہوئی اور گویا اردو یونیکوڈ کے حوالے سے ایک نئے ہوشربا جہاں کا در وا ہو گیا۔

فورمز یا فیس بک جیسی سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹس سے جہاں اکثر اوقات غیرضروری تنازعات یا بےتکے و بےجا مباحث سے وقت کا زیاں ہے تو اس کے مقابلے میں "بلاگ" کو کسی حد تک بہتر اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ علم کی اشاعت و توسیع اور مہذب تبادلۂ خیال میں اس پلاٹ فارم کا استعمال نسبتاً آسان ، فائدہ مند اور خودمختار حیثیت کا حامل ہے۔ (یہ الگ بات ہے کہ کچھ سادہ لوح بلاگران اس سنجیدہ پلاٹ فارم کو بھی عمومی گپ شپ کی بیٹھک کی طرح استعمال کر جاتے ہیں)۔

چونکہ 2005ء کے اختتامی مہینہ میں ، میں نے بلاگنگ کی شروعات کی تھی لہذا اس سال کی صرف ایک تحریر بلاگ پر موجود ہے۔ جبکہ ۔۔۔ 2006ء میں [8] مراسلات ، 2007ء میں [14] ، 2008ء میں [16] ، 2009ء میں [25] اور 2010ء میں تادمِ تحریر [12] مراسلات کی اشاعت اس بلاگ پر عمل میں آئی ہے۔
تحریروں کے اس قدر کم تناسب کا مطلب صرف اس قدر سمجھئے کہ اس سے 10 تا 20 گنا مضامین جو میں نے تقریباً ہر سال تحریر کئے وہ زیادہ تر فورمز پر ہی پوسٹ ہوتے رہے۔ اب میری کوشش ہے کہ مختلف و متنوع موضوعات پر مبنی ان تحاریر کو علیحدہ علیحدہ موضوعاتی بلاگز کے حوالے سے پیش کروں۔

اردو کمیونیٹی میں موضوعاتی بلاگز کی ویسے بھی کچھ کمی سی نظر آتی ہے۔ اسی سبب میں نے تین مختلف موضوعات پر الگ الگ بلاگ تخلیق کئے تھے ، یعنی :
"حجیت حدیث" کے موضوع پر بھی بہت سارے مختلف فورمز پر انگریزی اور اردو میں میرے مباحث موجود ہیں۔ فی الحال کوشش ہے کہ جلد سے جلد اس موضوع پر علیحدہ اردو بلاگ قائم کیا جائے۔ اس کے لیے یقیناً کچھ مزید محنت کی ضرورت پڑے گی کیونکہ اب رب العزت کی عنایت و کرم سے عربی میں حدیث کا ہر مجموعہ اور ہر قدیم سے قدیم عربی کتاب پورے تحقیقی حوالوں کے ساتھ آن لائن آ چکی ہے۔ اس طرح کسی حدیث یا کسی عربی عبارت کا آن لائن حوالہ دینے میں الحمدللہ اب کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

آخری بات :
مغرب کی تکنالوجی اور اس کی اخلاقی خوبیوں کے اعتراف میں کوئی باک نہیں مگر اس کی ایک خرابی کا ذکر کئے بغیر بھی چارہ نہیں۔
اپنی عمر سے بڑے یا عمررسیدہ افراد کی جو عزت و تکریم تمام ممالک کے مسلم معاشروں میں کی جاتی رہی ہے ، اس کی حقیقی وجوہات کا پتا شائد مادیت پرستی ، مساویانہ حقوق اور تیزرفتار تکنالوجی کے زعم میں مبتلا مغرب لگا نہ سکے ۔۔۔۔ مگر ہمارے ہاں اسوۂ حسنہ موجود ہے ۔۔۔۔ ملاحظہ فرمائیں :
بڑوں کو پہلے بات کرنے کا موقع دینے والے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے امام بخاری علیہ الرحمۃ نے اس حدیث (‏"‏ كبر الكبر ‏") کو جس باب کے تحت بیان کیا ہے ، اس باب کے عنوان میں لکھا :
باب اکرام الکبیر (جو عمر میں بڑا ہو اس کی تعظیم کرنا)
صحیح بخاری ، کتاب الادب
اسی طرح ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ : وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے بڑوں کے حقِ بزرگی کو نہ پہچانے۔
ابوداؤد (صحیح) ، ترمذی (حسن)

اور شعب الایمان للبیھقی میں حسن سند سے ایک روایت یوں ہے کہ :
إِنَّ مِنْ إِكْرَامِ جَلالِ اللَّهِ ، إِكْرَامُ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ
معمر مسلمان کا اکرام کرنا اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا حصہ ہے
شعب الایمان للبیھقی

اس موضوع پر ڈاکٹر طاہر القادری نے "اسلام میں عمر رسیدہ اور معذور افراد کے حقوق" کے عنوان سے ایک اچھی کتاب تحریر کی ہے، جس کا آن لائن مطالعہ یہاں کیا جا سکتا ہے (گو کہ اس میں درج کافی روایات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور ثابت نہیں ہیں۔)

اختلاف یا مبحث کوئی خراب بات نہیں ، لیکن اس کی آڑ میں دانستہ یا نادانستہ اپنے بڑوں کو بلاوجہ یا غیرضروری طور پر نشانہ بنانے سے نہ صرف ہم اسوۂ حسنہ سے دور ہوتے ہیں بلکہ انجانے میں اپنے والدین ، اساتذہ اور خاندانی ماحول کی رسوائی کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔

عمرِ عزیز کی چار دہائیوں پر محیط موسموں کو برت چکنے پر میرا خیال ہے کہ اپنے ساتھی نوجوان بلاگران کو کم از کم اتنی نصیحت کا حق مجھے حاصل ہے۔

میں اپنے قارئین ، دوست احباب ، ناصح و خیر خواہ اور عدم خوش گمانی رکھنے والوں کا دلی شکرگزار ہوں کہ ان کی تعریف و تنقید و حوصلہ افزائیوں کے سبب تحقیق اور مطالعہ کی امنگ کا سفر مسلسل ارتقاء میں ہے۔
والسلام علیکم۔

2010/12/09

خبر واحد : کیا صرف ایک صحابی والی روایت قابل ردّ ہوگی؟

کچھ فرصت دستیاب ہونے پر ان شاءاللہ ایک علیحدہ تحریر کے ذریعے "خبر واحد" پر کچھ تحقیق پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ہم سب کو اس مشہور حدیث کا علم ہے کہ : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے (انما الاعمال بالنیات)

صحیح بخاری کی یہ سب سے پہلی حدیث ہے۔ امام قسطلانی ، اپنی مشہور شرح بخاری "ارشاد الساری" میں لکھتے ہیں : ھذا الحدیث احد الاحادیث التی علیھا مدار الاسلام ۔۔۔۔۔۔ وقال الشافعی واحمد انہ یدخل فیہ ثلث العلم
یعنی : یہ حدیث ان احادیث میں سے ایک ہے جن پر اسلام کا دارومدار ہے۔ امام شافعی (علیہ الرحمۃ) اور امام احمد (علیہ الرحمۃ) نے صرف اس ایک حدیث کو علم دین کا تہائی حصہ قرار دیا ہے۔
اب اس حدیث کے متعلق ماہرین و محققین کا کیا فیصلہ ہے؟

ڈاکٹر محمود طحان اپنی مشہور کتاب "تیسیر مصطلح الحدیث" میں لکھتے ہیں :
حديث " إنما الأعمال بالنيات " تفرد به عمر بن الخطاب رضي الله عنه : هذا وقد يستمر التفرد إلى آخر السند وقد يرويه عن ذلك المتفرد عدد من الرواة
اور اس کے اردو ترجمہ کے طور پر نیٹ کی اردو دنیا کی مشہور شخصیت محمد مبشر نذیر اپنی ویب سائیٹ پر لکھتے ہیں :
"غریب مطلق" یا "فرد مطلق" ایسی حدیث کو کہا جاتا ہے جس کی سند کی ابتدا (یعنی صحابی) ہی میں انفرادیت پائی جاتی ہو (یعنی اسے ایک صحابی روایت کر رہا ہو۔) اس کی مثال یہ حدیث ہے "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔" یہ حدیث صرف سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ یہ انفرادیت سند کے آخر تک برقرار رہتی ہے کہ ہر دور میں اس حدیث کو روایت کرنے والا ایک شخص ہی ہوتا ہے۔
بحوالہ : خبر غریب کی اقسام
اونٹ کا پیشاب پینے والی حدیث جتنے بھی طرق سے بیان ہوئی ہے ، اس کو بیان کرنے والے بھی صرف ایک صحابی حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) ہیں۔ اگر اس کو صرف اس وجہ سے رد کرنا ہے کہ یہ روایت "صرف ایک" صحابی سے مروی ہے ۔۔۔۔ تو پھر ردّ کرنے والے کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ والی "انما الاعمال بالنیات" حدیث کو بھی مسترد کرنا چاہئے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اپنی مرضی چلاتے ہوئے ایک دلیل کی بنا پر ایک روایت کو تو ردّ کیا جائے اور دوسری حدیث کو اسی دلیل کی بنا پر قبول کیا جائے۔

2010/12/07

حدیث : اونٹ کا پیشاب پینا

صحیح بخاری میں ایک حدیث کچھ یوں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو (ایک بیماری کے علاج کے طور پر) اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا۔
اس حدیث پر اکثر و بیشتر اعتراض کیا جاتا ہے کہ پیشاب جیسی نجس چیز کو پینے کا حکم نبئ خیر الامۃ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیسے دے سکتے ہیں؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ پیشاب پینے کا یہ حکم "عمومی" نہیں بلکہ کسی بیماری کے علاج کے سلسلے کا "مخصوص" حکم ہے اور اسی سبب امام بخاری علیہ الرحمۃ نے اس حدیث کو "کتاب الطب" میں درج کیا ہے۔
اور دوسری بات یہ کہ ۔۔۔۔۔۔ خود قرآن سے بھی ایسی "تخصیص" ثابت ہے!
ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خنزیر کے گوشت اور مردہ جانور کو حرام قرار دینے کے ساتھ ساتھ یہ تخصیص بھی واضح کر دی کہ اگر آدمی "مجبور" ہو جائے تو یہ حرمت ختم ہو جائے گی۔
ملاحظہ فرمائیں : سورہ البقرہ (2) ، آیت : 173
تم پر مردہ اور (بہا ہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو، اس پر ان کے کھانے میں کوئی پابندی نہیں، اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے۔

اسی طرح دیگر تین آیات سے بھی اسی بات کا ثبوت دیکھئے :
سورہ المائدہ (5) ، آیت:3
سورہ الانعام (6) ، آیت:145
سورہ النحل (16) ، آیت:115

ائمہ محدثین اور علمائے عظام کی تحقیق کے مطابق اونٹ کا پیشاب پینے والی حدیث بالکل صحیح ہے اور اس کے ضعیف یا موضوع ہونے کی جانب کسی ایک معتبر محدث نے اشارہ تک نہیں کیا ہے۔ اگر کسی کے علم میں کسی محدث کی ایسی تحقیق ہو کہ جس کے سہارے اس حدیث کو ضعیف یا موضوع ثابت کیا گیا ہو تو معترض کو چاہئے کہ پورے حوالے کے ساتھ سامنے آئے۔

درحققیت حدیث پر اعتراض مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ یہود و نصاریٰ کی جانب سے ہے اور بدقسمتی سے کئی سادہ لوح مسلمان تحقیق کئے بغیر اس بےبنیاد پروپگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں جس کا مقصد ہی یہی ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کی اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اقوال ، افعال اور تقاریر سے جذباتی وابستگی کو ختم کیا جائے۔ یقین نہ آئے تو گوگل پر اونٹ کے پیشاب کے حوالے سے عیسائیوں/یہودیوں کے سوالات (اعتراضات) سرچ کر کے دیکھ لیں۔
غیرمسلموں کے ان تمام اعتراضات کا جواب ، دورِ جدید کی سائینس کے حوالے سے کافی کچھ باشعور مسلمانوں نے دے رکھے ہیں ، درج ذیل چند حوالے مطالعہ کیلیے کافی ہوں گے :

آخری ربط کی تحقیق کے آخر میں محقق نے وہ وجوہات بھی بیان کر دی ہیں کہ کن اسباب کے تحت اس حدیث پر اعتراض کیا جاتا ہے؟

متذکرہ بیان کردہ انہی اسباب میں سے شائد ایک سبب ہوگا جو کہ خاور صاحب کے بلاگ کے ایک تبصرے سے مبصر کی "غلط فہمی" کا یوں اظہار ہوتا ہے :
بخاری شریف کی دو کاپیاں میرے سامنے ہی اس وقت پڑی ہیں۔ جس میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہیں رسول اللہ نے آنکھوں کے امراض کے لئے اونٹ کا پیشاب پینے کا مشورہ دیا۔ وہ لوگ اونٹ کا دودھ اور پیشاب پینے کے بجائے اونٹ لے بھاگے جسکی بناء پہ رسول اللہ نے انکے قتل کا حکم دیا۔
بحوالہ : ایک تبصرہ برائے تحریر: "مغالطے"

مبصر نے واضح طور سے لکھا ہے کہ : وہ لوگ اونٹ کا دودھ اور پیشاب پینے کے بجائے اونٹ لے بھاگے

حالانکہ حدیث کے عربی متن میں صاف صاف لکھا ہے :
فَلَحِقُوا بِرَاعِيهِ فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَلَحَتْ أَبْدَانُهُمْ
اور انگریزی میں اس کا ترجمہ CRCC سائیٹ پر کچھ یوں ہے :
So they followed the shepherd that is the camels and drank their milk and urine till their bodies became healthy.
Volume 7, Book 71, Number 590
اور اردو ترجمہ میں علامہ داؤد راز (علیہ الرحمۃ) لکھتے ہیں :
۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ آپ کے چرواہے کے یہاں چلے جائیں یعنی اونٹوں میں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں ۔ چنانچہ وہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے پاس چلے گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کوہانک کرلے گئے ۔۔۔۔
صحیح بخاری ، کتاب الطب ، باب : اونٹ کے پیشاب سے علاج جائز ہے

حدیث کے عربی متن اور اردو انگریزی تراجم میں تک صاف لکھا ہے کہ ۔۔۔
۔۔۔ ان لوگوں نے پیشاب پیا اور تندرست بھی ہو گئے ۔۔۔۔۔
جبکہ ادھر مبصر کا اصرار کچھ اور ہے۔

علاوہ ازیں ۔۔۔۔۔ ہمارے بعض احباب کو پتا نہیں کیوں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور بخاری شریف سے چڑ ہے کہ جب تک امام صاحب کی کتاب کی کسی حدیث پر اعتراض جڑ نہ لیں انہیں چین نہیں پڑتا۔
انہی روشن خیال اور اپنے اذہان کو ائمہ محدثین کے فہم پر ترجیح دینے والے افراد سے ادباً اور مخلصاً عرض ہے کہ یہ حدیث اکیلے امام بخاری نے اپنی "صحیح بخاری" میں درج نہیں کی ہے بلکہ بیسوں کتبِ حدیث میں دیگر محدثین نے بھی یہی حدیث اپنی سند سے بیان کی ہے۔
ذیل میں کچھ آن لائن حوالے بطور ریکارڈ یہاں درج کئے جا رہے ہیں تاکہ آئیندہ کسی بدخواہ یا کم علم کو شکایت کا موقع نہ ملے۔
***
  1. صحیح مسلم ، کتاب المحاربین : online-link
  2. صحیح مسلم ، کتاب المحاربین : online-link
  3. مسند احمد ، مسند العشرہ المبشرین بالجنۃ : online-link
  4. ابوداؤد ، کتاب الحدود : online-link
  5. جامع ترمذی ، کتاب الاطعمۃ : online-link
  6. جامع ترمذی ، کتاب الطہارۃ : online-link
  7. سنن کبریٰ للنسائی (19 احادیث) ، کتاب الطہارۃ : online-link
  8. سنن ابن ماجہ ، کتاب الحدود : online-link
  9. سنن ابن ماجہ ، کتاب الطب : online-link
  10. صحیح ابن خزیمہ ، کتاب الوضو : online-link
  11. مصنف ابن ابی شیبۃ ، کتاب السیر : online-link
  12. صحیح ابن حبان ، کتاب الطہارۃ : online-link
  13. سنن دارقطنی ، کتاب الطہارۃ : online-link
  14. طبرانی صغیر ، باب الالف : online-link
  15. طبرانی اوسط ، باب الالف : online-link
  16. مصنف عبدالرزاق ، کتاب الاشربۃ : online-link
  17. بیھقی کبیر ، کتاب النفقات : online-link
  18. بیھقی صغیر ، کتاب الحدود : online-link
  19. البحر الزخار بمسند البزار 10-13 : online-link
  20. مسند ابی یعلیٰ : online-link
  21. مستخرج ابی عوانہ ، کتاب الحدود : online-link
  22. تاریخ دمشق لابن عساکر ، حرف العین : online-link
  23. تفسیر طبری ، تفسیر سورہ طہ : online-link

اور بخاری شریف میں ۔۔۔
  1. صحیح بخاری ، کتاب الجہاد و السیر : online-link
  2. صحیح بخاری ، کتاب المغازی : online-link
  3. صحیح بخاری ، کتاب الوضو : online-link
  4. صحیح بخاری ، کتاب الطب : online-link
  5. صحیح بخاری ، کتاب الطب : online-link
  6. صحیح بخاری ، کتاب الحدود : online-link
  7. صحیح بخاری ، کتاب المحاربین : online-link
  8. صحیح بخاری ، کتاب المحاربین : online-link

یاد رہے کہ یہاں صرف چند حوالے درج کئے گئے ہیں ورنہ یہ حدیث 300 سے زائد مقامات پر بہ تکرار 100 سے زائد کتبِ احادیث میں دہرائی گئی ہے۔
ایک امام بخاری کو ریجکٹ کرنے کی بات نہیں ۔۔۔۔ کیا ہمارے نوجوان جذباتی ساتھی (کہ جن کے دل میں ، بقول خود ان کے، "حقیقی اسلام" کا بڑا درد ہے!) ان تمام ائمہ دین کو جھٹلانے کی ہمت کریں گے؟؟
یا تو دین کے دامن میں ان ائمہ عظام کے فہم کو بصد احترام قائم رہنے دیجئے یا پھر اعلان کر دیجئے کہ : 12، 14 سو سالہ اسلام بوسیدہ ہو چکا ہے لہذا اب ہم اپنی مرضی کا اسلام قائم کریں گے !!

2010/10/09

تقدیر اور تدبیر

انسان اپنے اعمال و افعال میں بس ایک حد تک مختار ہے ، مختارِ مطلق یا مختارِ کُل نہیں ہے۔ اور اس اختیار کی حدود مقرر کرنا ، انسان کے بس کی بات بھی نہیں ہے یعنی یہ بات انسان کی عقل و فہم سے بالاتر ہے۔
ایک کسان بڑے عمدہ بیج ، بالکل درست موسم میں اور بڑی زرخیز زمین میں بوتا ہے ، رکھوالی کرتا ہے ، پانی بھی خوب دیتا ہے لیکن عین فصل پکنے کے قریب کسی ارضی یا سماوی آفت کے سبب ساری فصل تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔
اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان خود کچھ محنت نہیں کرتا مگر دوسروں کی محنت کا ثمر اسے مل جاتا ہے۔

لہذا جبر و قدر کے اس مسئلہ کا درست حل یہی بنتا ہے کہ اللہ تعالٰی کو عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير مانا جائے۔
اچھی اور بری تقدیر دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ان دونوں پر ایقان رکھنا مسلمانوں کے ایمان میں داخل ہے۔ جیسا کہ حدیثِ جبریل سے واضح ہے :
وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ
جامع ترمذی ، کتاب الایمان

ویسے یہ بھی یاد رہے کہ صرف تقدیر پر بھروسہ کر کے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیکار بیٹھے رہنے سے شریعت میں منع کیا گیا ہے۔
جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک مشہور روایت سے پتا چلتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بتایا کہ ہر شخص کا جنت یا جہنم والا ٹھکانہ لکھا جا چکا ہے تو صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) نے جواب میں عرض کیا کہ :
"پھر کیوں نہ ہم تقدیر پر بھروسہ کر لیں اور نیک عمل کرنا چھوڑ دیں؟"
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا :
اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ
عمل کرو۔ ہر شخص کو ان اعمال کی توفیق دی جاتی ہے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ جو شخص نیک ہوگا اسے نیکوں کے عمل کی توفیق ملی ہوتی ہے اور جو بدبخت ہوتا ہے اسے بدبختوں کے عمل کی توفیق ملتی ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات {فَأَمَّا مَن أَعْطَى وَاتَّقَى : سورہ-92- الليل} آخر تک پڑھیں ، یعنی :
جس نے دیا (اللہ کی راہ میں) اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات کو سچا سمجھا ، سو ہم اس کے لیے نیک اعمال کو آسان کر دیں گے۔
صحیح بخاری ، کتاب التفسیر

ان احدیث کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ تقدیر پر ایمان ، انسان کو عمل سے نہیں روکتا بلکہ اس کے اندر مزید شوق و ولولہ پیدا کرتا ہے کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ ہر انسان کو اس کے مقدر کے حصول کے لیے اللہ کی جانب سے مدد اور توفیق عطا ہوتی ہے اور عمل شروع کرنے سے اس کے مقدر کی راہ آسان ہو جاتی ہے۔
ونیز تقدیر پر ایمان لانے کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ انسان اپنی کسی بھی کوشش و سعی کے رائیگاں ہو جانے کا غم نہیں کرتا بلکہ اس نقصان کو اپنی تقدیر کا لکھا سمجھ کر صبر کرتا ہے اور جتنا کچھ اسے ملتا ہے اسی پر قناعت کرتا ہے۔

تقدیر کے مسئلہ پر گفتگو کرنے سے ممانعت کے سلسلے میں یہ دو روایات ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کی جاتی ہیں :
1 :
إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حِينَ تَنَازَعُوا فِي هَذَا الْأَمْرِ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ أَلَّا تَتَنَازَعُوا فِيهِ
(تقدیر کی) انہی باتوں سے پچھلی قومیں ہلاک ہوئیں۔ میرا فیصلہ یہ ہے کہ تم اس معاملہ میں جھگڑا نہ کرو۔
جامع ترمذی ، کتاب القدر

2 :
مَنْ تَكَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ لَمْ يُسْأَلْ عَنْهُ
جو شخص تقدیر کے بارے گفتگو کرے گا قیامت کے دن اس سے سوال کیا جائے گا، جو خاموش رہے گا اس سے کچھ سوال نہ ہوگا۔
سنن ابن ماجہ ، باب فی القدر

واضح رہے کہ محدثین کی تحقیق کے مطابق : یہ دونوں ہی روایات شدید ضعیف ہیں۔

2010/10/04

ویب صفحات پر غزل جسٹی فیکیشن

اردو کے ویب صفحات پر غزل جسٹی فیکیشن (poetry justification) کے حوالے سے عرصہ دراز سے کوئی مناسب حل ڈھونڈا جا رہا ہے۔
W3C پر CSS3 کی تحقیق کرتے ہوئے جب میں نے یہ لفظ سرچ کیا : Asian typography

تو یہ صفحہ سامنے نظر آیا ہے :
Last line alignment: the 'text-align-last' property

CSS3 کے اس کوڈ کو لے کر میں نے مختلف براؤزرز میں تجربات کئے۔
انٹرنیٹ اکسپلورر اور اوپیرا پر "غزل جسٹی فیکیشن" کا یہ سی-ایس-ایس کوڈ بہترین مطلوبہ نتائج دکھاتا ہے۔
مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ موزیلا فائرفاکس ، سفاری اور گوگل کروم ، CSS3 کے اس ٹکسٹ-جسٹی فیکیشن کو سپورٹ نہیں کرتے !!

سی ایس ایس کوڈ یہ ہے :

[div style="font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Urdu Naskh Asiatype, Tahoma; font-size: 18px; line-height: 125%; text-align-last: justify; text-align: justify; text-justify: distribute; width: 80%;"]اردو غزل[/div]

میں نے کئی گھنٹے کسی ہیک کی تلاش میں مشغول کئے کہ کسی طرح CSS3 کی اس ٹکسٹ-جسٹی فیکیشن سہولت کو فائر فاکس اور کروم میں بھی کارآمد بنایا جائے۔ مگر سوائے اس ہیک کے ، کوئی مفید تحریر نہیں ملی :
William’s Blog - Justifying text

ابھی میں نے اس ہیک کو ٹسٹ نہیں کیا ہے۔ فرصت ملتے ہی دیکھوں گا ، ان شاءاللہ۔
آپ مسدس حالی کا ایک بند اس کوڈ کے سہارے ، یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
جسٹی فیکیشن میں قید اس شاعری کو پڑھنے کے لیے انٹرنیٹ اکسپلورر یا اوپیرا براؤزر استعمال کیجئے گا۔
انٹرنیٹ اکسپلورر کا اسکرین شاٹ

مگر دینِ بر حق کا بوسیدہ ایواں
تزلزل میں مدت سے ہیں جس کے ارکاں

زمانہ میں ہے جو کوئی دن کا مہماں
نہ پائیں گے ڈھونڈا جسے پھر مسلماں

عزیزوں نے اُس سے توجہ اٹھا لی
عمارت کا ہے اس کی اللہ والی

پڑی ہیں سب اجڑی ہوئی خانقاہیں
وہ درویش و سلطاں کی امید گاہیں

کھلیں تھیں جہاں علمِ باطن کی راہیں
فرشتوں کی پڑتی تھیں جن پر نگاہیں

کہاں ہیں وہ جذبِ الٰہی کے پھندے
کہاں ہیں وہ اللہ کے پاک بندے

وہ علمِ شریعت کے ماہر کدھر ہیں
وہ اخبار دیں کے مبصر کدھر ہیں

اصولی کدھر ہیں، مناظر کدھر ہیں
محدث کہاں ہیں، مفسر کدھر ہیں

وہ مجلس جو کل سر بسر تھی چراغاں
چراغ اب کہیں ٹمٹاتا نہیں واں

مدارس وہ تعلیم دیں کے کہاں ہیں
مراحل وہ علم و یقیں کے کہاں ہیں

وہ ارکان شرعِ متیں کے کہاں ہیں
وہ وارث رسولِ امیں کے کہاں ہیں

رہا کوئی امت کا ملجا نہ ماویٰ
نہ قاضی نہ مفتی نہ صوفی نہ مُلّا

کہاں ہیں وہ دینی کتابوں کے دفتر
کہاں ہیں وہ علمِ الٰہی کے منظر

چلی ایسی اس بزم میں بادِ صرصر
بجھیں مشعلیں نورِ حق کی سراسر

رہا کوئی ساماں نہ مجلس میں باقی
صراحی نہ طنبور، مطرب نہ ساقی

2010/10/02

بہتر کون ۔۔۔ ؟!

کچھ لوگ اٹھ آتے ہیں بہتر معاشی یا سماجی یا تعلیمی پس منظر سے اور کامیابی بھی حاصل کر جاتے ہیں۔
اور کچھ کا نقطۂ آغاز انتہائی نچلی سطح یعنی کہ صفر سے شروع ہوتا ہے ، ایک ایک سنگِ میل عبور کرنے انہیں مستقل مزاجی سے سخت ترین محنت کرنا پڑتی ہے۔

کامیابی کا تقریباً ایک ہی مقام حاصل کرنے والے درج بالا دونوں طبقوں کے افراد کا تقابل اگر کیا جاتا ہے تو ان کے نقطۂ آغاز اور ان کے وہ تمام حالات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہئے جن سے گزر کر وہ اس مقام تک پہنچے ہیں۔

جب ایک انسان زندگی میں انتہائی نچلی سطح سے جدوجہد شروع کرتا ہے اور اس کی مدد اور رہنمائی کے ذرائع بھی کمزور ہوتے ہیں تو ناموافق حالات کی وجہ سے زندگی میں ترقی کے منازل طے کرنے میں اسے بڑی مستقل مزاجی سے سخت محنت کرنا پڑتی ہے اور ہر سنگِ میل عبور کرنے کے لیے بیشمار سختیاں جھیلنی پڑتی ہیں۔

لہذا ایسے انسان کی کامیابی ایک ایسے شخص کی کامیابی سے بڑھ کر ہے جو زندگی میں تو اسی مقام پر پہنچا لیکن اس کا معاشی اور سماجی پس منظر بہتر اور اعانت و تعاون کا نظام مستحکم تھا۔

جناب سید نوید حیدر جعفری ، کامیابی کے اصولوں کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔
حقیقی دنیاوی کامیابی کو سمجھنے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کامیابی ہمیشہ جیتنے کا نام نہیں !
بلکہ اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ہار جانا یا پیچھے ہٹ جانا بھی اپنے اندر ایک طرح کا مستحسن عمل ہے۔
اگر کسی کی جیت میں "اصول" اور "انصاف" ہار جاتے ہیں تو چاہے کامران شخص نے اپنی جیت میں کچھ بھی حاصل کیا ہو مگر وہ دراصل اُس کا حق نہیں ہوتا بلکہ اس نے کسی اور کا حق غصب کیا ہوتا ہے۔

لہذا دیکھنے کی بات یہ بھی ہوتی ہے کہ کامیاب انسان نے اپنے اہداف تک پہنچنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا ہے؟ کیونکہ ۔۔۔۔
جب اپنے مقاصد کے حصول کے لیے صحیح راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو راستے کی سختیاں اور مشقت کامیاب انسان کو ذاتی طور پر مضبوط اور کردار کی سطح پہ بلند کرتی ہیں۔
اور یہی حقیقتاً کسی بھی کامیابی کی روح ہے !

اسی لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کوئی انسان زندگی میں کس مقام پہ پہنچا بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ کس راستے سے اور کن حالات سے گزر کر وہ اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکا ہے؟

2010/07/25

محبت کے عملی تقاضے ۔۔۔۔ !

بات گھوم پھر کر وہیں آ جاتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہمیں کس سے محبت ہوگی ؟

ایمان کا تقاضا ہے کہ ہماری محبت کا مرکز ہمارے پیارے رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہو۔ ماں باپ بیوی بچے ، دوست احباب رشتہ دار اقرباء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقدم رکھیں ، دنیا کی محبوب سے محبوب ترین شے سے زیادہ محبت ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔

مگر ۔۔۔۔۔۔۔
اس محبت کے تقاضے بھی تو ہوں گے۔
ماں کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے تو اولاد کے چھوٹے سے چھوٹے کام کو رغبت و خوشی سے انجام دیتی ہے ۔۔۔ کھانا کھلانا ہو ، نہلانا دھلانا ہو ، سلانا جگانا ہو ، لکھانا پڑھانا ہو ۔۔۔۔ ماں کبھی بیزار نہیں ہوگی کہ یہ کام اولاد سے اس کی محبت کا تقاضا ہیں۔
باپ کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے تو اولاد کی مناسب دیکھ بھال ، ان کی تعلیم و تربیت ، ان کی رہائش ، لباس ، خورد و نوش اور دیگر انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر دم ہر لمحہ ہر پل محنت و مشقت میں لگا رہے گا کہ یہ تمام کام اولاد سے اس کی محبت کا اظہار ہیں۔
شوہر کو بیوی سے یا بیوی کو شوہر سے محبت ہوتی ہے تو جانبین ایک دوسرے کے جذبات و احساسات ، حوائج و ضروریات ، آراء و مشورہ جات ، کا خیال رکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کے تئیں محبت کا جذبہ سدا بہار رہے۔

ذرا سوچئے کہ ۔۔۔۔۔
اگر ماں رشتہ داروں کے حلقہ میں صرف شور مچائے کہ وہ اپنی اولاد سے نہایت ہی محبت رکھتی ہے مگر اولاد کے کسی بھی کام میں ذرہ برابر دلچسپی نہ لے
باپ معاشرے میں پروپگنڈہ برپا کرے کہ وہ اپنی اولاد کو نہایت عزیز رکھتا ہے مگر اولاد کی ذمہ داریوں کے تئیں غفلت پر غفلت کرتا رہے
شوہر اپنے دوستوں کے حلقے میں نعرہ لگائے کہ وہ اپنی بیوی کو بہت بہت چاہتا ہے مگر بیوی کے جذبات و احساسات و ضروریات کا بالکل بھی خیال نہ رکھے ۔۔۔۔۔

تو اس طرح کا شور ، پروپگنڈہ ، نعرہ بازی ۔۔۔۔ محبت کا اظہار کہلائے گی ؟ محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا اعلان شمار ہوگی ؟؟

اگر نہیں ۔۔۔۔
اور یقیناً نہیں تو ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ ہمارے ہاں پھر یہ دو رُخی کیوں ہے؟؟

ہم اپنے پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت کے لمبے چوڑے زبانی دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر ۔۔۔۔۔
مگر اس محبت کے جو شرعی و اخلاقی تقاضے ہیں ۔۔۔۔ کیا ہم ان کو صدقِ دلی سے پورا کرتے ہیں؟ یا پھر وقتاً فوقتاً نعروں یا پروپگنڈا بازی سے ہی کام نکالتے ہیں ؟؟

یہ کیسا حُب رسول ہے جس بات کا نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) حکم دیں ، اسے صرف سن لیا جائے اور جب عمل کرنے کی باری آئے تو سب فراموش اور اپنے نفس کی ہی بات مانی جائے ۔۔۔۔ ؟

کسی ادیب نے اپنے ایک افسانے میں ایک بہت اچھی بات کچھ یوں تحریر فرمائی تھی :
لال پیارا ہے تو لال دو۔ مال عزیز ہے تو مال بانٹ دو۔ حسن پر غرور ہے تو حسن صدقے میں اُتار دو۔ انا بیچ میں آ رہی ہو تو اسے قربان کر دو۔ سب سے عزیز چیز ، سب سے پیاری شے ، جان سے اچھی تمنا ، اور نہیں تو عزیز ترین لمحہ ہی کسی کو دے دیں ۔
یہی اپنی ذات کی نفی ہے ۔
اپنی ذات کی نفی کرنے والے اور اللہ کی ذات کو برحق ماننے والے ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کو بہت بہت پسند ہیں ۔

فرمایا گیا ہے :
تم تقویٰ کی اعلیٰ منزل تک پہنچ ہی نہیں سکتے جب تک تم اپنی وہ چیز دوسروں کی نذر نہ کر دو جو تمہیں سب سے زیادہ پیاری ہو ۔
( سورة آل عمران : 3 ، آیت : 92 )

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسوۂ حسنہ پر صدقِ دلی سے چلنے کی توفیق عطا فرمائے ، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تعلیمات اور احکام پر عمل کے متعلق ہم سب کے دلوں میں کشادگی کو جگہ دے اور کسی تنگی کو راہ نہ دے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ہماری محبت کو قلبی ، عقلی ، وجدانی اور جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ بھرپور طور سے عملی بھی بنا دے ۔۔۔۔۔۔
آمین یا رب العالمین !

2010/07/16

جو شخص کسی مسلم پر پردہ ڈالے ۔۔۔

اردو بلاگنگ کی حالیہ متنازعہ لہر کے حوالے سے میں کچھ عرصہ سے خاموشی سے جائزہ لے رہا تھا۔ لیکن نعمان کی اس تحریر کا درج ذیل اقتباس کافی اہم محسوس ہوا :
اردو بلاگستان میں ایک خطرناک رویہ جو پرورش پارہا ہے وہ یہ ہے کہ لوگ موضوعات کے بجائے لوگو.ں پر تحاریر لکھنے لگے ہیں۔ میلوں دور بیٹھ کر ایک دوسرے کی شخصیت اور کردار کے نقوش کی ہولناکی وضع کرنے میں اپنی لفاظیت اور روایتی پنجابی جگت سازی کے تمام گر آزما رہے ہیں۔ حماقت یہ ہے کہ وہ کبھی ایکدوسرے سے ملے بھی نہیں۔ مگر کردار کشی کے شوق سے سرشار انہیں یہ کام سب سے آسان اور دلچسپ نظر آتا ہے۔
نیٹ کی اردو کمیونیٹی کے ایک طویل عرصہ کے میرے اپنے تجربے اور مشاہدے کے مطابق صرف اردو بلاگستان نہیں ، بلکہ اردو کے نام پر جتنی ویب سائیٹس ، فورمز ، گروپس (یاھو ، گوگل وغیرہ) ، چیٹ رومز ، بلک [bulk] ایمیل فارورڈنگ وغیرہ جاری ہیں ، تقریباً سب جگہ یہ بدترین اور قابل اعتراض صورتحال موجود ہے۔
اگر ساری دنیا کے مقابلے میں برصغیری ماحول کا تقابل کیا جائے تو فیصد کچھ زیادہ ہی نظر آئے گا۔ بنیادی وجہ شائد یہی ہو کہ اپنے گریبان میں جھانکے بغیر خود کو فرشتہ اور مقابل کو شیطان یا فرعون سمجھا اور باور کرایا جائے۔

مرد و زن ، دونوں ہی طرف سے اکثر اوقات دردِ دل لئے معاشرہ کی اصلاح کے لئے نکلا جاتا ہے تو کبھی دین کی خدمت کی غرض کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے ۔۔۔۔ مگر عموماً اپنے متضاد اعمال ، غلط سوچ ، اور لاپرواہ قلم سے ، اصلاح کے دعویدار نہ معاشرہ کی اصلاح کر پاتے ہیں اور نہ ہی دین کی خدمت بلکہ دانستہ یا نادانستہ ان کا مقصد فتنہ و فساد برپا کرنا اور شر پھیلانا ہوتا ہے چاہے اس کے لئے کسی حد تک کیوں نہ جانا پڑے۔

ذرا سوچئے کہ کتنا سچ فرمایا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ :
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت
جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔
(صحیح بخاری ، كتاب الادب)


ہر ناقص بات جو ذہن میں آئے ، ہر منفی سوچ جس پر نفس اکسائے ، ہر برا رویہ جو مشتعل کرے ۔۔۔۔ ضروری نہیں ہے کہ اسے بیان بھی کیا جائے چاہے "مزاح" کے نام پر یا چاہے مظلومیت کے ناتے سہی۔
اگر ہر خرابی بیان کرنے والی ہوتی تو خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اللہ عز و جل کی طرف سے اُس وقت ٹوکا نہ جاتا (آل عمران : 128) جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کفار پر لعنت کر رہے تھے۔ جب کفار پر لعنت کرنے سے رب نے منع کیا تو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ ہم کیسے مسلمان ہیں کہ اپنے ہی بھائی کا گوشت نوچنے سے باز نہیں آتے!

کسی کی ذات کے متعلق غلط سلط اندازے لگائے جائیں یا کسی کی مفروضہ یا حقیقی خامیوں کو اجاگر کیا جائے یا جلے دل کے پھپھولے پھوڑے جائیں ۔۔۔۔۔ ان تمام کاموں سے بہتر کام تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنت ہے جو واشگاف الفاظ میں یوں بیان ہوئی ہے :
من ستر مسلما ستره الله في الدنيا والآخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه
جو شخص کسی مسلم پر پردہ ڈالے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں پردہ ڈالے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں (رہتا) ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں (رہتا) ہے۔
(صحیح مسلم ، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ)

اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو علم و عمل کی توفیق سے نوازے ، آمین یا رب العالمین !!

2010/06/07

سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی ۔۔۔ ؟!

تحریر : راشد اشرف

میں تذبذب میں تھا کہ کیا کروں ، کیا نہ کروں ۔۔۔ یہ فیس بک والوں کو کیا سوجھی کہ یہ شرمناک حرکت کر بیٹھے ؟
اچھا خاصا کام چل رہا تھا، دوستوں سے بات بھی ہوتی تھی اور خیالات ، تصاویر اور ویڈیوز کا تبادلہ بھی ہوتا تھا۔ ایک عادت سی ہوچلی تھی روز شام کو فیس بک پر آنے کی۔ پیغام کے خانے میں آئے ہوئے " نامے مرے نام " کتنے اچھے لگتے تھے۔۔۔ عجلت میں جوابات دینے میں کس قدر لطف آتا تھا۔۔۔ ادبی گفتگو کے تو کیا ہی کہنے ۔۔۔ ادھرکوئی افسانہ یا کسی خود نوشت سے احساسات کو جھنجوڑدینے والا واقعہ اسکین کیا اور ادھر پوسٹ کرڈالا اور دیکھتے ہی دیکھتے جوابات کی بھرمار۔۔۔۔ پھر فیس بک پر جناب ابن صفی کے صفحے پر تو ہماری وجہ سے خوب رونق لگی رہتی تھی ۔۔۔۔ اور خاص کر جب کوئی خاتون ہماری پوسٹ کے جواب میں یہ فقرہ لکھتی تھیں کہ "نائس شیئرنگ راشد صاحب" تو من ہی من میں لڈو پھوٹتے تھے ۔۔۔۔ یہ سب کچھ کیا گیا، زندگی جیسے ویران سی ہوگئی ۔۔۔
شاید 31 مئی کے بعد فیس بک پر سے پابندی ہٹ جائے، یہ تقویت بھی دل کو تھی ۔۔۔ لیکن پھر دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ جیسے فیس بک کو روزانہ استعمال کرنے کی عادت ہوگئی تھی، اس پابندی کے بعد اس کواستعمال نہ کرنے کی بھی عادت ہوگئی ۔۔۔
لیکن آخراس کا مستقل حل کیا ہوگا ؟ یہ سوال پیش نظر رہا۔ کچھ دن بیتے تو احساس ہوا کہ فیس بک کی انتظامیہ اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے اس صفحے کو ہٹا بھی تو سکتی تھی جیسے ہم نے تین ماہ قبل کمال احمد رضوی صاحب (الف نون فیم) کا صفحہ تخلیق کیا تو یہ اختیارات خود بخود مل گئے کہ کسی بھی نامعقول رائے کو فی الفور ہٹا دیا جائے۔ تو یہ کیوں نہیں ہوسکتا کہ دل آزاری کا سبب بنے والے صفحے کو پاکستان میں بلاک کردیا جائے۔

اس پابندی کے بعد روزجمنے والی یاروں کی محفل میں ہم احباب کو ایک روز بتا رہے تھے بھائیو! اصل بات تو یہ ہے کہ دل میں ڈھیٹ اور بے حس قسم کا چور ہے جو چپکے سے کہتا ہے کہ ایک دن یہ پابندی ہٹ جائے گی اور یہ کہ متعلقہ صفحہ ہٹا کر بھی تو کام چلایا جا سکتا ہے۔ ہماری اس بات کے جواب میں ایک بحث شروع ہوئی ۔ احباب اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے چلے گئے۔ ہم نے کہا کہ :
دوستو! کسی نے ہمیں ایک ایسا لنک بھیجا ہے جسے استعمال کرکے آپ باآسانی فیس بک پر جاسکتے ہیں ۔۔ اور تو اور اپنی لوکیشن بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔ کیوں نہ اس کو ٹرائی کیا جائے ؟

اس تمام گفتگو کے دوران کونے میں بیٹھا ایک یار آہستگی سے کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیکن آوازوں کے شور میں اس کی آواز دب سی جاتی تھی۔ یوں بھی پہلے کب ہم نے اس کی کسی رائے پر توجہ دی تھی ؟ نہ بات کہنے کا سلیقہ، نہ آواز میں گن گھرج ۔ نحیف ساانسان اور سدا کا کمزورموقف۔۔۔ یکایک کسی نے کہا کہ بھائیو! ذراہمارے اس دوست کی بھی سن لو کہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ اجازت ملنے پر وہ اپنی کمزور سی آواز میں گویا ہوا:
"آپ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بجائے پوری سائٹ کو بلاک کرنے کے، فیس بک کے محض ان صفحات کو بلاک کردیا جائے جہاں یہ دل آزار مواد موجود ہے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے! کوئی اہل ایمان ایسی عمارت کے کسی کمرے میں بیٹھ سکتا ہے جس عمارت کی کسی اور منزل پر ہی سہی، کسی اور کمرے میں ہی سہی، آنحضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخی کی جارہی ہو ؟ ۔۔۔ ہرگز ہرگز نہیں۔ یہی معاملہ اس ویب سائٹ کا بھی ہے"۔

کمرے میں یک دم خاموشی چھا گئی ۔۔۔ سب لوگ ٹکڑ ٹکڑ اس کی طرف دیکھے جارہے تھے۔وہ پستہ قد ، کمزور سا انسان ایک دم سے سب کی نظروں میں قد آور اور معتبر ہوگیا تھا۔ سادی سی بات ، سیدھی دلوں میں اتر چکی تھی۔

اس لمحے میں نے ایک فیصلہ کیا۔۔۔۔
پابندی کے باوجود فیس بک کو استعمال کیے جاسکنے والا وہ لنک میں کسی اور کو نہیں بھیجوں گا۔ ۔۔۔
31 مئی کو اگر حکومت نے فیس بک پر سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ نہ کیا تو میں یہ سائٹ استعمال نہیں کروں گا۔ اور اگر حکومت نے فیس بک پرسے پابندی اٹھا لی اور اس کے بعد کسی بھی موقع پر ویب سائٹ کی انتظامیہ نے دوبارہ ایسی شرمناک حرکت کی تو اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دوں گا۔ آخر فیس بک کی انتظامیہ کو یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ ان کی اس حرکت سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔
میں تو ایک بے عمل انسان ہوں۔ اکثریت کا خیال ہے کہ ان کو دنیا کی بڑی سے بڑی آسائش و سہولت، شان رسالت پر سمجھوتہ کرنے کے عوض دی جائے تو وہ اسے پائے حقارت سے ٹھوکر مارتے ہیں:

یہاں فاصلوں میں ہیں قربتیں، یہاں قربتوں میں شدتیں
کوئی دور رہ کر اویس ہے، کوئی پاس رہ کر بلال ہے

تازہ اطلات کے مطابق بنگلہ دیش کی حکومت نے بھی فیس بک پر پابندی عائد کردی ہے ۔ ایسی اطلات بھی آئیں کہ ویب سائٹ کی انتظامیہ کو پاکستان میں لگنے والی پابندی کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ ادھر امریکہ کے موقر جریدے نیوز ویک نے فیس بک کے بانی مارک زوگر برگ کو انسانی مزاج و احساسات سے ناآشنا اور تعلقات عامہ کے فن میں نااہل قرار دیا ہے ۔نیوز ویک نے اپنی تازہ اشاعت میں کہا ہے :
مارگ زوگر اور اس کے ساتھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تو ماہر ہیں مگر انسانی تعلقات کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ انہوں نے پرائیویسی پالیسی کے حوالے سے سوچ میں غیر معمولی سقم کا مظاہرہ کیا ہے۔ فیس بک کا تعلقات عامہ کا شعبہ ناکارہ ہے۔ بحران حل کرنے کے بجائے وہ صورتحال کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔ ابتدا میں پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی نہ کرنے کا اعلان کیا گیا اور اب کہا جارہا ہے کہ فیس بک کے ممبران کے دباوٴ پر پالیسی کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ان ہتھکنڈوں سے فیس بک کی مقبولیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دوستو! میں آج اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہ میرا کیا وطیرہ ہے کہ آنحضو ر (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عقیدت بھی ہے، ان کی شفاعت کا سہارا بھی ہے اور فیس بک کو چھوڑنا بھی گوارا نہیں:

عشق قاتل سے، مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا ؟
سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا ؟

2010/05/30

سب کچھ پاکستان میں ہے

لفظوں کی یہ باوزن بندش ضرب المثل بنتی جا رہی ہے کہ ۔۔۔۔
"سب کچھ پاکستان میں ہے"۔
تمام موسم ، تمام قدرتی نعمتیں ، معدنیات ، پھل ، پھول ، فطین ذہن ، ارفع خیال ، صاحبانِ حسن ، صاحبانِ جمال ، اصحابِ کمال ، صاحبانِ ثروت و مال اور غربت کے غم سے نڈھال ، لوٹنے والے ، لٹانے والے ، ظلم کرنے والے ، ظلم سہنے والے ، قانون بنانے والے اور اسے توڑنے والے ، ووٹ دینے والے اور ووٹ لینے والے ۔۔۔۔۔۔
جی ہاں ، سب کچھ پاکستان میں ہے !!

ہمارے ہاں قومی زبان اردو بولنے والے بھی ہیں جن کی 99 فیصد تعداد عوام میں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح قومی زبان "اردو" سے کھلواڑ کرنے والے بھی ہیں جن کی 99 فیصد تعداد ذرائع ابلاغ کے مختلف شعبوں میں اپنا کام دکھا رہی ہے۔ وطن عزیز میں نجی چینل کسی "وبا" کی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔ ان پر ناشتے ، ظہرانے اور عشائیے کے علاوہ شام کی چائے کے اوقات کے زیرعنوان پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے نوجوانوں میں انتہائی مقبول ہیں کیونکہ ایسے زیادہ تر پروگرام صرف دیکھنے کے لائق ہوتے ہیں ، سننے کے نہیں !
ان چینلز نے بھانپ لیا ہے کہ نوجوانوں میں وہی پروگرام مقبول ہوتے ہیں جن میں "اینکرز" نہیں بلکہ "اینکرنیاں" ہوں۔
یہ وہ نت نئے ملبوسات پہنے ، دوپٹے کو درخور اعتناء نہ جانے ، کرسی پر بیٹھی ، شانے اچکاتی ، اور ریختہ کے بخیے ادھیڑتی نظر آتی ہیں کیونکہ وہ نہ صرف تن زیبی کے حوالے سے "متاثرینِ مغرب" میں شامل ہوتی ہیں بلکہ قومی زبان بولتے ہوئے بھی انہیں کچھ "کمتری" کا سا احساس ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ اردو میں کچھ کچھ انگلش شامل کرنے کے بجائے انگلش میں کچھ کچھ اردو بول جاتی ہیں ۔۔۔۔ مثلاً ، ان کا مہمان اگر کوئی فنکار ہو تو اس سے سوال کچھ یوں کرتی ہیں کہ :
"آپ اس فیلڈ میں کیسے آئے ؟ آئی مین ! واز اِٹ یور اون ایمبیشن اور اے نیچرلی بیسٹوڈ گفٹ؟ ناظرین جاننا چاہیں گے"۔
حالانکہ ناظرین کی کم از کم 60 فیصد تعداد کو تو یہی پتا نہیں ہوتا کہ ان کی نمائیندگی کرتی ہوئی اس اینکرنی نے کیا سوال کیا ہے؟ اس دوران "کالر کی کال" بھی لی جاتی ہے اور وہ نہایت سفاکی سے "حقیقت" کا اظہار یوں کرتا ہے کہ :
"آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں"۔
ایسے میں ہر نوجوان یہی سوچتا ہے کہ کاش یہ "کالر" میں ہی ہوتا۔

جیسا کہ ہم نے کہا نا کہ "سب کچھ پاکستان میں ہے"
چنانچہ ایک جانب اگر ایسی "اینکرنیاں" اردو کا تیاپانچہ کر رہی ہیں تو دوسری جانب وطن سے بےحد محبت کرنے والی نستعلیق شخصیات بھی کم نہیں۔ ان میں وطنیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ لوگ انہیں "اردو میڈیم" کا "طعنہ" دیتے ہیں جسے وہ اعزاز سمجھتے ہیں۔ جب تک ایسے لوگ پاکستان میں موجود ہیں ، اردو پروان چڑھتی رہے گی ۔۔۔۔۔۔

- معروف انشائیہ نگار شہزاد اعظم کے انشائیہ "جناب و بیگم ریختہ" سے ایک اقتباس

2010/05/26

فیس بک تنازعہ -- (ڈپلیکیٹ)

انتہائی معذرت کے ساتھ ۔۔۔۔۔
فیس بک تنازعہ سے متعلق اپنا پچھلا مراسلہ (جو کہ ابھی کچھ دیر قبل پوسٹ کیا تھا) ، میں دوبارہ یہاں ارسال کر رہا ہوں۔
مجھے شکایت ملی ہے کہ اس پوسٹ کے ربط (url) میں فیس بک کا لفظ ہونے کے سبب ، پاکستان میں یہ مراسلہ PTA کی جانب سے بلاک کر دیا گیا ہے۔
چونکہ بلاگ اسپاٹ کے کسی بھی مراسلے کا یو-آر-ایل تبدیل نہیں کیا جا سکتا ، اسی لیے ایک علیحدہ مراسلے کی شکل میں دوبارہ ارسال کر رہا ہوں۔

فیس بک کو 31-مارچ-2010ء تک کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے بین کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے فیس بک کے صرف اُس خاص صفحہ کو بین کیا ہے جس سے تنازعہ پھیلا ہے۔ یہ متنازعہ صفحہ آج بھی فیس بک پر موجود ہے اور لگتا تو یہی ہے کہ فیس بک کی جانب سے اسے حذف نہیں کیا جائے گا۔

دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو ، ایک مسلمان اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخی یقیناً برداشت نہیں کر سکتا۔ کیا یہ چیز بھی دنیا کے کسی انسان کو ، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ، سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے مذہب کی اعلیٰ اور مقتدر ہستی پر کی جانے والی تضحیک و استہزاء کو صرف اس لیے برداشت کرے کہ "آزادئ اظہارِ رائے" فرد کا بنیادی حق ہے؟
آج کے گلوبل ولیج میں کس کا بنیادی حق کیا ہے اور کس قدر ہے اور کتنی حد میں ہے ۔۔۔۔ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟
کیا اس کا فیصلہ انکل سام کریں گے؟ یا فیس بک انتظامیہ ؟ یا وہ صیہونی لابی جو دنیا کے تمام مالی معاملات پر غاصبانہ قبضہ رکھتی ہے؟

بےشک ! مانا کہ آج مسلمان اس حالت میں نہیں ہیں کہ اپنا فیصلہ یا اپنے اصول و ضوابط دنیا سے قبول کرا سکیں یا کم سے کم انہیں قائل ہی کر سکیں۔ مگر کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ "بنیادی انسانی حقوق" پر صرف کسی ایک طبقہ کی اجارہ داری قائم ہو جائے؟
نسلِ انسانی کا ایک بنیادی حق جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے ، وہ ہے : جیو اور جینے دو !
خود جینے اور دوسروں کو جینے دینے کے لیے ایک دوسرے کے تئیں عزت و احترام لازمی امر ہے۔

اڈولف ہٹلر ۔۔۔۔ تاریخ کی وہ شخصیت ہے جس کے کردار کے کسی ایک "اچھے" پہلو کی بھی سادہ انداز میں تعریف کی جائے تو ایک "خاص طبقہ" کو گویا آگ لگ جاتی ہے اور تعریف کرنے والے فرد یا گروہ کو الزام دیا جاتا ہے کہ "جیو اور جینے دو" کے اصول کے برخلاف اس طرح کی تعریف کے ذریعے "ایک قوم" کے جذبات کو مشتعل کیا جا رہا ہے۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ ایسا الزام لگاتے وقت "اس قوم" کو اپنے ہی ایک زریں اصول "آزادئ اظہارِ رائے" کی بالکل بھی یاد نہیں آتی ! اور یوں جنگ چھیڑ دی جاتی ہے کہ قومِ یہود کو پریشان کیا جا رہا ہے ، ان کی توہین و ملامت کی جا رہی ہے۔

اس کی مثال دیکھنی ہو تو اس صفحہ کو وزٹ کیجئے :
One Facebook, Two Faces [One is Real Ugly ]

فیس بک انتظامیہ کے تضاد یا دہرے معیار کی یہ اعلیٰ مثال بلکہ ثبوت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔
فیس بک کو Adolf Hitler Fan Page اس لیے برداشت نہیں کہ اس سے کسی قوم / مذہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
مگر۔۔۔۔
فیس بک کو Draw Muhammad Day Page اس لیے قبول ہے کہ یہ "آزادئ اظہارِ رائے" کے زمرے میں آتا ہے (چاہے اس صفحہ کے ذریعے کسی قوم یا مذہب کے ماننے والوں کو کتنی ہی دلی تکلیف کیوں نہ پہنچتی ہو )۔

صاف بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔
گلوبل ولیج پر اپنا من چاہا فیصلہ مسلط کرنے والوں کو "بنیادی انسانی حقوق" کی پاسداری سے کوئی سروکار نہیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا صرف ان ہی کے تخلیق کردہ خودساختہ اور متضاد اصول و ضوابط کو قبول کرے اور اس پر عمل پیرا ہو ۔۔۔ اب چاہے ان اصولوں سے کسی نسل ، قوم ، قبیلہ ، مذہب ، زبان ، ثقافت ، جنس ، جسمانی معذوری وغیرہ کی کتنی ہی خلاف ورزی کیوں نہ ہوتی ہو۔

یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ ان حالات میں فیس بک کا استعمال کیا جانا چاہئے یا نہیں؟
کیا تمام مسلمانوں کو فیس بک پر سے اپنا اکاؤنٹ مستقلاً ختم کر لینا چاہئے؟

اسلام نے سائینس اور جدید تکنالوجی کے ذرائع سے استفادہ اور ان کے ذریعے تبلیغِ دین کو شائد کہیں بھی منع نہیں کیا بلکہ اس کی ترغیب ہی دلائی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا مخصوص ذریعہ بھی استعمال کیا جانا درست ہے جس کے کسی حصہ سے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل اہانت کی جاتی ہو؟ کیا "امر بالمعروف نھی عن المنکر" کی خاطر حمیتِ دین یا غیرتِ ملی سے دامن چھڑا لینا چاہئے؟

وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اسلامی ممالک کے سربراہان اور معتبر و مقتدر علمائے کرام حفظہم اللہ اس موضوع پر اپنی مشترکہ رائے اور اپنے عملی اقدام سے دنیا کو آگاہ کریں۔

اس کا فیصلہ عوام کے جذبات پر چھوڑا جانا بہرحال درست عمل نہیں ہوگا !!

فیس بک [Facebook] ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟!

فیس بک کو 31-مارچ-2010ء تک کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے بین کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے فیس بک کے صرف اُس خاص صفحہ کو بین کیا ہے جس سے تنازعہ پھیلا ہے۔ یہ متنازعہ صفحہ آج بھی فیس بک پر موجود ہے اور لگتا تو یہی ہے کہ فیس بک کی جانب سے اسے حذف نہیں کیا جائے گا۔

دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو ، ایک مسلمان اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخی یقیناً برداشت نہیں کر سکتا۔ کیا یہ چیز بھی دنیا کے کسی انسان کو ، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ، سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے مذہب کی اعلیٰ اور مقتدر ہستی پر کی جانے والی تضحیک و استہزاء کو صرف اس لیے برداشت کرے کہ "آزادئ اظہارِ رائے" فرد کا بنیادی حق ہے؟
آج کے گلوبل ولیج میں کس کا بنیادی حق کیا ہے اور کس قدر ہے اور کتنی حد میں ہے ۔۔۔۔ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟
کیا اس کا فیصلہ انکل سام کریں گے؟ یا فیس بک انتظامیہ ؟ یا وہ صیہونی لابی جو دنیا کے تمام مالی معاملات پر غاصبانہ قبضہ رکھتی ہے؟

بےشک ! مانا کہ آج مسلمان اس حالت میں نہیں ہیں کہ اپنا فیصلہ یا اپنے اصول و ضوابط دنیا سے قبول کرا سکیں یا کم سے کم انہیں قائل ہی کر سکیں۔ مگر کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ "بنیادی انسانی حقوق" پر صرف کسی ایک طبقہ کی اجارہ داری قائم ہو جائے؟
نسلِ انسانی کا ایک بنیادی حق جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے ، وہ ہے : جیو اور جینے دو !
خود جینے اور دوسروں کو جینے دینے کے لیے ایک دوسرے کے تئیں عزت و احترام لازمی امر ہے۔

اڈولف ہٹلر ۔۔۔۔ تاریخ کی وہ شخصیت ہے جس کے کردار کے کسی ایک "اچھے" پہلو کی بھی سادہ انداز میں تعریف کی جائے تو ایک "خاص طبقہ" کو گویا آگ لگ جاتی ہے اور تعریف کرنے والے فرد یا گروہ کو الزام دیا جاتا ہے کہ "جیو اور جینے دو" کے اصول کے برخلاف اس طرح کی تعریف کے ذریعے "ایک قوم" کے جذبات کو مشتعل کیا جا رہا ہے۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ ایسا الزام لگاتے وقت "اس قوم" کو اپنے ہی ایک زریں اصول "آزادئ اظہارِ رائے" کی بالکل بھی یاد نہیں آتی ! اور یوں جنگ چھیڑ دی جاتی ہے کہ قومِ یہود کو پریشان کیا جا رہا ہے ، ان کی توہین و ملامت کی جا رہی ہے۔

اس کی مثال دیکھنی ہو تو اس صفحہ کو وزٹ کیجئے :
One Facebook, Two Faces [One is Real Ugly‪]

فیس بک انتظامیہ کے تضاد یا دہرے معیار کی یہ اعلیٰ مثال بلکہ ثبوت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔
فیس بک کو Adolf Hitler Fan Page اس لیے برداشت نہیں کہ اس سے کسی قوم / مذہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
مگر۔۔۔۔
فیس بک کو Draw Muhammad Day Page اس لیے قبول ہے کہ یہ "آزادئ اظہارِ رائے" کے زمرے میں آتا ہے (چاہے اس صفحہ کے ذریعے کسی قوم یا مذہب کے ماننے والوں کو کتنی ہی دلی تکلیف کیوں نہ پہنچتی ہو )۔

صاف بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔
گلوبل ولیج پر اپنا من چاہا فیصلہ مسلط کرنے والوں کو "بنیادی انسانی حقوق" کی پاسداری سے کوئی سروکار نہیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا صرف ان ہی کے تخلیق کردہ خودساختہ اور متضاد اصول و ضوابط کو قبول کرے اور اس پر عمل پیرا ہو ۔۔۔ اب چاہے ان اصولوں سے کسی نسل ، قوم ، قبیلہ ، مذہب ، زبان ، ثقافت ، جنس ، جسمانی معذوری وغیرہ کی کتنی ہی خلاف ورزی کیوں نہ ہوتی ہو۔

یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ ان حالات میں فیس بک کا استعمال کیا جانا چاہئے یا نہیں؟
کیا تمام مسلمانوں کو فیس بک پر سے اپنا اکاؤنٹ مستقلاً ختم کر لینا چاہئے؟

اسلام نے سائینس اور جدید تکنالوجی کے ذرائع سے استفادہ اور ان کے ذریعے تبلیغِ دین کو شائد کہیں بھی منع نہیں کیا بلکہ اس کی ترغیب ہی دلائی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا مخصوص ذریعہ بھی استعمال کیا جانا درست ہے جس کے کسی حصہ سے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل اہانت کی جاتی ہو؟ کیا "امر بالمعروف نھی عن المنکر" کی خاطر حمیتِ دین یا غیرتِ ملی سے دامن چھڑا لینا چاہئے؟

وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اسلامی ممالک کے سربراہان اور معتبر و مقتدر علمائے کرام حفظہم اللہ اس موضوع پر اپنی مشترکہ رائے اور اپنے عملی اقدام سے دنیا کو آگاہ کریں۔

اس کا فیصلہ عوام کے جذبات پر چھوڑا جانا بہرحال درست عمل نہیں ہوگا !!

2010/01/15

13 جنوری 1948ء - پاکستان کا مقصد کیا ۔۔۔ سیکولرزم یا اسلام ؟

پاکستان کا مطلب کیا
لا الٰه الا الله
یہ وہ نعرہ ہے جس نے قیامِ پاکستان کی تحریک کے دوران مسلمانوں میں جوش و خروش پیدا کیا تھا ۔

بانئ پاکستان محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد بھی متعدد مواقع پر قیامِ پاکستان کے مقاصد کو نہایت واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بیان کیا ہے ۔
13۔ جنوری 1948ء کو اسلامیہ کالج ، پشاور کے جلسہ میں حصولِ پاکستان کا مقصد بیان کرتے ہوئے قائد پاکستان نے فرمایا تھا :
ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں ۔

we did not demanded Pakistan just for the sake of a piece of land. Instead, we wanted to obtain such a laboratory, where we can adopt the Principles of Islam.
Ref.: Link

آج اگر پاکستانی ذرائع ابلاغ میں سیکولرزم کی تازہ لہر چل نکلی ہے تو اس کے پسِ پشت عالمی منصوبہ بندی کا شبہ بھی ناممکن نہیں ۔ اور اس قسم کی منصوبہ بندی کا اہم ترین ہدف یہ ہے کہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں اسلامی تحریکوں کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔
بے شک پاکستان میں صحافت کو اور صحافیوں کو آزادئ رائے کی سہولت حاصل ہے ۔ اسی سبب اگر ... پاکستان کے سیکولر مزاج صحافی دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے مضامین میں پاکستان کی نظریاتی اساس پر حملہ کرتے ہیں تو اس پر غصہ یا ناراضگی کا جذباتی اور غیر ضروری اظہار مناسب عمل نہیں ۔ بلکہ ایسے مواقع پر ہونا تو یہ چاہئے کہ وہ صحافتی طبقہ بھی کھل کر سامنے آئے جس کے نزدیک نظریۂ پاکستان کا دوسرا نام اسلام ہے ۔

* نظریۂ پاکستان . .. یعنی پاکستان آئیڈیالوجی کی اصطلاح کب اور کس سوچ کے تحت استعمال کی گئی ؟
* کیا پاکستان کا مطالبہ حقیقت میں محض زمین کے ایک ٹکڑے کے حصول کی خاطر کیا گیا تھا ؟
* جس ریاست کے دستور کے پیشِ نظر شریعتِ اسلامی رہی ہو کیا اس ریاست کو سیکولر ریاست کا درجہ دیا جا سکتا ہے ؟
* کیا قائد پاکستان نے نظریۂ پاکستان کا نعرہ کبھی استعمال ہی نہیں کیا تھا ؟
* کیا یہ حقیقت ہے کہ نظریۂ پاکستان کی اصطلاح جماعتِ اسلامی کی قائم کردہ ہے ؟

اِن تمام سوالات کے جوابات سے نئی نسل کو واقف کرانے کی خاطر آج یہ امر ضروری ہو گیا ہے کہ تاریخِ قیامِ پاکستان کے گمشدہ اوراق کو تلاش کیا جائے ۔

نظریۂ پاکستان یا پاکستان آئیڈیالوجی یا پاک آئیڈیالوجی کی اصطلاح ... سب سے پہلے لفظ "پاکستان" کے خالق چودھری رحمت علی نے 1934ء میں استعمال کی تھی ۔ ان کے اپنے الفاظ یوں ہیں :
The effect of Pak-Ideology on the myth of Indian unity has been devastating. It has destroyed the cult of uni-nationalism and uni-territorialism of India and created instead the creed of the multi-nationalism and multi-territorialism of "Dinia" (South Asia).
ہندوستانی وحدت کے موہوم راز پر پاک آئیڈیالوجی کے بہت تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ۔ اس نے وحدانی علاقائیت ، وحدانی قومیت کے عمومی تصور کو ختم کر دیا اور اس کے بجائے کثیر القومیت اور کثیر علاقائیت یعنی دینیہ (جنوبی ایشیا) کے تصور کو پروان چڑھایا ۔
Ref.: Pakistan - The Father Land of the Pak Nation. By: Ch. Rehmat Ali, P:205

نظریۂ پاکستان کا تعلق یقینی طور پر تحریکِ پاکستان سے مربوط ہے ۔ خود قائد پاکستان نے بھی نظریۂ پاکستان کے الفاظ اپنی تقریروں میں ارشاد فرمائے تھے ۔

It is by our own dint of arduous and sustained efforts that we can create strength and support our people not only to achieve our freedom and independance but to be able to maintain it and live according to Islamic ideals and principles.
Pakistan not only means freedom and independance but the Muslim Ideology which has to be preserved, which has come to us as a precious gift and treasure and which we hope other will share with us.

ہم اپنی سخت اور پیہم جدوجہد کے ذریعے قوت بہم پہنچا سکتے ہیں ، ہم نہ صرف آزادی کے حصول کے لیے اپنے لوگوں کی معاونت کر سکتے ہیں ، بلکہ ہم انہیں اس قابل بھی بنا سکتے ہیں کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اسلامی آدرش اور اصولوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکیں ۔
پاکستان کا مطلب محض آزادی نہیں ہے ، اس کا مطلب مسلم آئیڈیالوجی بھی ہے جس کا تحفظ کیا جانا باقی ہے ، جو ہم تک ایک قیمتی تحفے اور خزانے کے طور پر پہنچا ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دوسری (اقوام) بھی اس میں حصہ دار بن سکتی ہے ۔
Ref.: Some recent speeches and writing of Mr.Jinnah. Published By: Sh. Muhammad Ashraf, Lahore, 1947. Page:89.
اسلام دشمن طبقہ نے جب قائد پاکستان کی ایک تقریر کا من چاہا مفہوم اخذ کرتے ہوئے یہ منفی پروپیگنڈا شروع کیا تھا کہ پاکستان کا دستور اسلامی شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا ... تب قائد پاکستان نے بھرپور انداز میں اس شرانگیزی کی مذمت کی تھی ۔
25۔ جنوری 1948ء کو کراچی بار اسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد پاکستان نے فرمایا تھا :
میں ان لوگوں کی بات نہیں سمجھ سکتا ، جو دیدہ و دانستہ اور شرارت سے پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا ۔ اسلام کے اصول عام زندگی میں آج بھی اسی طرح قابل اطلاق ہیں ، جس طرح تیرہ سو سال پہلے تھے ۔
میں ایسے لوگوں کو جو بدقسمتی سے گمراہ ہو چکے ہیں ، یہ صاف صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ یہاں غیر مسلمانوں کو بھی کوئی خوف نہیں ہونا چاہئے ۔
Why this feeling of nervousness that the future constitution of Pakistan is going to be in conflict with Shariat Laws? Islamic principles today are as applicable to life as they were 1,300 years ago.
I would like to tell those who are misled by propaganda that not only the Muslims but Non Muslims have nothing to fear.
Ref. : Link1 / Link2


علاوہ ازیں قائد پاکستان نے 4۔ فبروری 1948ء کو سبی میں خطاب کے دوران یہ واضح ترین الفاظ بھی ارشاد فرمائے :
میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ حیات پر ہے جو ہمارے عظیم واضعِ قانون پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے قائم کر رکھا ہے ۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اسلامی اصولوں اور تصورات پر رکھنی چاہئیں ۔ اسلام کا سبق یہ ہے کہ مملکت کے امور و مسائل کے بارے میں یہ فیصلے باہمی بحث و تمحیص اور مشوروں سے کیا کرو
It is my belief that our salvation lies in following the golden rules of conduct set for us by ou great law-giver, the Holy Prophet of Islam (peace be upon him). Let us lay the foundation of our democracy on the basis of truly Islamic ideals and principles. Our Almighty has taught us that "our decisions in the affairs of the State shall be guided by discussions and consultations".
Tribal Politics in Baluchistan - Ch.-III:Tribal attitude towards Pakistan, P:56


پسِ نوشت :
کچھ سال قبل یہ تحریر ایک ویب سائیٹ پر میں نے لگائی تھی جو اب بند ہو چکی ہے۔ پھر یہی اقتباسات اردو مجلس فورم پر یہاں پیش کئے تھے۔ اور اب ابوشامل کی اس تحریر : قائد اعظم – ایک سیکولر رہنما؟ سے متاثر ہو کر اس بلاگ پر بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔